سامنے کے صفحہ کو کی طرف

8 ملازمتی زندگی



با ب 8 ۔ ملازمتی زندگی


زیادہ تر لوگ کام کرتے ہیں

ڈنمارک میں، زیادہ تر افراد کام کرتے ہیں،مرداور خواتین دونوں

زیادہ تر تنخواہ دار ملازمت پیشہ لوگ ہیں جو پبلک یا پرائیویٹ کمپنیوں میں کام کرتے ہیں۔ لیکن بہت وسیع تعداد تجارت بھی کرتی ہے جن کہ اپنے کاروبار، ریستوران، کمپنیاں یا کھیتی باڑی کے کام ہیں۔

ملازمین کی تقسیم ان کے پیشہ کے تحت
ڈنمارک میں، کم سے کم ۲۸ لاکھ (2,815,000) لوگ کام کرتے ہیں۔ وہ پیشہ جات کچھ اس طرح سے ہیں:شرح فیصد (اندازاً)
کھیتی باڑی، ماہی گیری اور خام مال3
صنعت16
توانائی اور پانی فراہم کرنا1
عمارت اور تعمیر7
کامرس، ہوٹل اور ریستوران18
ٹرانسپورٹ، پوسٹل سروس، تیلی مواصلات6
سرمایہ، کاروباری سروسز وغیرہ13
عوامی اور ذاتی سروسز36
ٹوٹل100,0
لیبر منڈی جائزہ، شماریات ڈنمارک، ۲۰۰۷

ملازمت کی تلاش

ملازمت ڈھونڈنا شروع کرنے سے پہلے، آپ اپنی میونسپل اتھارٹی کے جاب سینٹر کے مشیر پیشہ سے مشورہ لے سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی ٹریڈ یونین یا بے روزگاری فنڈ* (a-kasse) کے رکن ہیں، آپ وہاں سے مدد اور مشورہ حاصل کرسکتے ہیں۔

جاب سینٹرز

جاب سینٹر کا پہلا کام یہ ہے کہ ملازمت کی تلاش کے لیے مدد کرے۔ یہ وہاں بھی ہے جہاں آپ رجسٹر ہوئے ہیں اگر آپ بے روزگار ہیں۔ جاب سینٹرز میں کمپیوٹر ہوتے ہیں جنہیں آپ روزگار ڈھونڈنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، اور جاب سینٹرز کا عملہ روزگار کا ایک منصوبہ تیارکرنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ آپ جاب سینٹرز کے پتے دیکھنے کے لیے یہاں جائیں www.jobnet.dk

روزگار تلاش کرنے کے بہت سے راستے

آپ مصروف ہو کر ملازمت تلاش کر سکتے ہیں:

  • اخبار اور کاروباری روزنامچے کے اشتہاروں کے لیے درخواستیں بھیجتے ہوئے۔
  • ان جگہوں پر جہاں آپ کام کرنا چاہتے ہوں وہاں بن مانگے درخواست بھیجیں، یا براہ راست درخواست دیں۔
  • اپنے رابطے استعمال کریں جو پہلے سے مارکیٹ میں کام کر رہے ہوں۔
  • پرائیویٹ ملازمت کی ایجنسیوں کے ذریعہ ملازمت تلاش کریں۔
  • انٹرنیٹ پر روزگار ڈھونڈیں (لائبریریاں اور جاب سینٹرز انٹرنیٹ مہیا کر سکتے ہیں)۔
  • اپنا اشتہار کسی اخبار اور انٹرنیٹ پر دیں۔
ملازمت کے سنٹر کے ہاں بورڈ


آپ کن صلاحیتوں کے حامل ہیں؟

آپ کی صلاحیت اور عمر پر منحصر ہے کہ آپ کو مزید تربیت حاصل کرنی چاہیے یا فوراً ملازمت کی تلاش شروع کرنی چاہیے۔ اگر آپ غیر تربیت یافتہ ہیں، ممکن ہے کہ آپ کچھ چھوٹے کورس کرنے کے بعد ایسا کام شروع کر سکیں جس میں مہارت درکار نہ ہو۔

اہلیت ہونا ضروری ہے

ڈنمارک میں کسی پیش کردہ ملازمت کے ملنے کے لیے آپ کو اس ملازمت کی اہلیت اور صلاحیت کے قابل ہونا ہو گا۔ بہت سی ملازمتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں کم یا زیادہ عرصے کی تعلیم درکار ہوتی ہے۔ تقریباً تمام تر ملازمتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں خاص صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں یا ان صلاحیتوں کو حاصل کرنے کی خواہش ہو۔ یہ وہاں بھی لاگو ہوتا ہے جہاں کسی خاص تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسے مثال کے طور پر، صفائی یا فیکٹری میں کام، جہاں آپ کو بہت سے مختلف کام سیکھنے ہوں گے۔ یہ حقیقت وہاں بھی درپیش ہے جہاں آپ اپنی دکان یا کاروبار کرنا چاہتے ہوں۔

آغاز کرنے کے لیے اہم

آپ کی پہلی ملازمت ہو سکتا ہے کہ آپ کی پسند کی نہ ہو اور نہ ہی زیادہ تنخواہ والی ہو۔ لیکن باوجود اس کہ یہ اہم ہے کہ آپ کا روزگار مارکیٹ میں آغاز ہو گیا۔ ایک بار جب آپ کو ملازمت مل جائے تو آپ کے لیے اپنی صلاحیت اور اہلیت کو بڑھانے کے لیے آسانی ہو جاتی ہے تاکہ بہتر ملازمت تلاش کر سکیں۔

تعلیم اور کام

اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں اور ڈینش بول سکتے ہیں، آپ کو اچھی نوکری ملنے کے بہترین امکانات ہیں۔ اور بہت سے معاملات میں، ڈینش بولنا اور اپنی مادری زبان بولنا بہت فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کی اہلیت کم ہے اور ڈینش کم آتی ہے، نوکری ملنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ کے لیے کئی مختلف انتخابات ہیں جو نوکری ملنے کے لیے آپ کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ لینگویج کورس کر سکتے ہیں، کسی کمپنی میں کام کر کے تجربہ حاصل کر سکتے ہیں یا پبلک سیکٹر میں سبسڈی شدہ نوکری کر سکتے ہیں۔ بعد میں، آپ کو عام شرائط کے مطابق ملازمت مل جائے گی۔

درخواست اور تقرری

اگر آپ ڈینش زبان پر معقول عبور رکھتے ہیں تو کام ملنا زیادہ آسان ہے۔ لیکن اچھی اہلیت کے ساتھ بھی ملازمت ملنے میں وقت لگتا ہے۔ اس سے پہلے کہ کام کا آغاز کر سکیں ہو سکتا ہے کہ بہت سی درخواستیں اور انٹرویو دینے پڑیں۔

تحریری درخواست

زیادہ تر کام مہیا کرنے والوں کا مطالبہ ہوتا ہے کہ ملازمت کے لیے تحریری دیں۔ آپ کا جاب سینٹر، ٹریڈ یونین یا بےروزگاری فنڈ ملازمت کے لیے آپ کی تحریری درخواست کے لیے مدد کر سکتے ہیں۔ درخواست ایک صفحہ پر مشتمل ہونی چاہیے، اور اس میں تحریر ہونا چاہیے کہ آپ کیوں اس ملازمت کے لیے درخواست دے رہے ہیں، آپ کی اہلیت کیا ہے اور تجربہ کتنا ہے، اور اپنے بارے میں تھوڑی سی معلومات۔

یہ ایک اچھا خیال ہے کہ اپنا CV ساتھ بھیجیں، مثلاً، تعلیمی قابلیت، پیشہ ور تجربہ اورفرست کے اوقات کے مشغول کا ایک جائزہ۔ یہ بھی ایک اچھا خیال ہے کہ، اپنے امتحانات کے سرٹیفیکیٹس کی کاپی اور پہلے مالکان، کام کی جگہ اور کسی پروگرام کے تحت کام کا آغاز کیے جانے کے خطوط حوالے کے طور پر ساتھ شامل کر دیں۔

ملازمت کے لیے انٹرویو

اگر آپ کو کسی نوکری کے انٹرویو کے لیے بلایا گیا ہے، یہ اہم ہے کہ صحیح طور پر تیار ہو کر جائیں۔ نوکری دینے والا یہ امید رکھتا ہے کہ آپ یہ واضح کریں کہ آپ کس چیز میں اچھے ہیں، آپ کیوں اس نوکری کے اہل ہیں اور آپ کمپنی کی بہتری کے لیے کیا کریں گے۔

جو کچھ آپ کام، کمپنی اور اپنی توقعات کے لیے جاننا چاہتے ہیں اس کے لیے انٹرویو کو استعمال کریں۔

ممکن ہے کہ ایک سے زیادہ لوگ انٹرویو دینے کے لیے پیش ہوں۔ ان میں سے ایک کام دینے والے کا نمائندہ ہو سکتا ہے۔

فیکٹری پر مرد

کام دینے والے ان باتوں کو اہمیت دیتے ہیں:



ملازمت کا معاہدہ

جب آپ کو نوکری پر رکھ لیا جاتا ہے، آپ کو ملازمت کا ایک معاہدہ ملے گا۔ اس میں ملازمت کی سب سے زیادہ اہم شرائط اور مطالبات کی معلومات ہوتی ہیں۔ یہ ہو سکتے ہیں:

  • کام کی تفصیل
  • تنخواہ اور کام کے گھنٹے
  • چھٹیاں
  • کام کے اوقات
  • برخواست کے نوٹس کی مدت

اگر آپ بے روزگار ہو جاتے ہیں

بے روزگار بیمہ

جب آپ کام کرنا شروع کرتے ہیں، یہ اچھا خیال ہے کہ بے روزگاری فنڈ* میں اندراج ہوں، جسے a-kasse کہتے ہیں۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ بے روزگار ہو جاتے ہیں تو آپ کو بے روزگاری معاوضہ* کے طور پر مالی امداد مل سکتا ہے۔ بے روزگاری فنڈ کی ادائیگیاں ٹیکس میں سے استخراج ہوتی ہیں۔

بے روزگار ہونے کے ناطے، بے روزگاری معاوضہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ شرائط پر پورا اتریں۔ ضروری ہے کہ آپ ایک سال تک بے روزگاری فنڈ کے ممبر ہوں اور کسی حد تک کام کیا ہو۔ ضروری ہے کہ آپ کا بے روز گاری فنڈ آپ کو مکمل تفصیل سے آگاہ کرے۔

جاب سینٹر میں درخواست دیں

اگر آپ اپنی ملازمت کھو دیتے ہیں تو ضروری ہے کہ پہلے روز ہی اپنی میونسپل اتھارٹی کے جاب سینٹر میں درخواست دیں۔

یہاں، نوکری کی تلاش کے لیے آپ کا اندراج کیا جائے گے۔ اگر آپ بے روزگاری فنڈ کے ممبر ہیں تو آپ کو معاوضہ کارڈ دیا جائے گا جس سے آپ اپنے بے روزگاری فنڈ سے بے روزگاری معاوضہ حاصل کر سکیں گے۔

اگر آپ بے روزگاری فنڈ کے ممبر نہیں ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ نقد وظیفہ یا مدد حاصل کر سکیں۔ اگر آپ آخری آٹھ میں سے سات سال ڈنمارک میں رہے ہیں تو آپ اس کے اہل ہیں کہ آپ کو نقد وظیفہ دیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہے اور آپ اپنے اخراجات پورے نہیں کر پا رہے تو آپ کو امداد دینا شروع کی جائے گی۔ شروع کی امداد نقد وظیفہ کی رقم سے کم ہوتی ہے۔

کام کی تلاش میں

بے روزگار ہونے کے ایک ماہ کے اندر ضروری ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے اپنی تعلیمی قابلیت، پیشہ ور تجربہ اور ذاتی صلاحیتیں اور خواہش شامل کرتے ہوئے اپنا CV تیار کریں۔ آپ کو CV جاب سینٹر کے نیشنل ڈیٹا بیس jobbanken میں دینا ہو گا www.jobnet.dk۔ ضروری ہے کہ CV خود تیار کریں اور آپ اس میں فراہم کی گئی معلومات کے ذمہ دار ہوں گے۔ لیکن آپ کا جاب سینٹر اور بے روزگاری فنڈ آپ کو اس کی تیاری کے لیے مشورہ دے سکتے ہیں۔

ضروری ہے کہ اپنے آپ کو جاب مارکیٹ کے لیے دستیاب رکھیں۔

ضروری ہے کہ اپنے آپ کو جاب مارکیٹ کے لیے دستیاب رکھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ضروری ہے کہ کام کی تلاش جاری رکھیں اور جیسے ہی کوئی کام ملے تو اسے جلد از جلد شروع کر دیں۔ اگر آپ کو نوکری نہیں ملتی، جاب سینٹر آپ کو کوئی نوکری دلوانے میں مدد کرے گا۔ ضروری ہے کہ ملازمت کے لیے جن انٹرویو کے لیے آپ کو طلب کیا گیا ہو ان میں جائیں۔ اور وہ کام کریں جو آپ کی میونسپل اتھارٹی نے کام کی متحرک کاری پروگرام* کے تحت آپ کو دیا ہو۔ پروگرام کام کی متحرک کاری کے کورسز میں ملازمت کی تربیت اور سبسڈی شدہ ملازمت شامل ہو سکتی ہیں۔

اگر آپ کو کوئی شک ہو، اپنے جاب سینٹر یا بے روزگاری فنڈ سے مشورہ کریں۔

ڈینش لیبر مارکیٹ

معاہدے - ڈینش نمونہ

ڈنمارک میں، بہت سی اجرت اور کام کی شرائط مالکان اور ملازمین کی تنظیموں کے درمیان طے ہوتی ہیں۔ یہ ایک مشترکہ معاہدہ ہوتا ہےجو ٹریڈ یونین اور ملازمین کی تنظیموں کے درمیان دستخط کیا جاتا ہے۔ مشرکہ معاہدے میں تنخواہ، کام کے گھنٹے، تربیت، پینشن اور بیماری کے دوران تنخواہ پر لاگو ہونے والے قواعد اور نوٹس کی شرائط شامل ہوتی ہیں۔ ڈنمارک میں یہ رواج نہیں کہ اس شعبہ میں قانون سازی کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم "ڈینش لیبر مارکیٹ نمونہ" کی بات کر رہے ہیں۔

مقررہ مدت میں ہڑتال نہ کرنے کا معاہدہ

ایک بار جب معاہدہ ہو جائے، کسی قسم کی ہڑتال نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری چیزوں کے علاوہ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ملازمین کو معاہدے کی مدت کے دوران یہ اجازت نہیں کے وہ ہڑتال کریں یا کام بند کریں۔ اگر کو ئی ان بن ہو جائے، اس کا حل لیبر مارکیٹ کی جماعتوں کو خود کرنا چاہیے بغیر اس کے کہ ریاست ان مزاکرات میں شامل ہو یا حل نکالے۔

ہفتے میں ۳۷ گھنٹے

عام طور پر کل وقتی کام کرنے کے لیےمعینہ وقت ۳۷ گھنٹے مقرر ہیں۔ ملازم ہونے کے ناطے آپ کو یہ حق ہے کہ قانونی تعطیل کے روز کی تنخواہ ملے۔ تمام ملازمین کو یہ حق ہے کہ سال میں پانچ ہفتے کی چھٹیاں ملیں۔ مرد اور عورت دونوں کو زچگی کی چھٹی لینے کا حق۔ کام پر صحت اور احتیاط کے لیے سخت قوانین عائد ہوتے ہیں۔ ۱۳ سال سے کم عمر بچوں کو گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت نہیں۔

ٹریڈ یونین

ایک رسم

ڈنمارک میں، ملازمین رسمی طور پر ٹریڈ یونین کے رکن بنتے ہیں۔۔ ٹریڈ یونین مناسب تنخواہ اور کام کی شرائط کی یقین دہانی کے لیے مالکان کے آگے اپنے اراکین کے مفاد کا تحفظ کرتی ہے۔ ٹریڈ یونین اور بے روزگاری فنڈ ایک جیسے نہیں۔

منظم حالات کی یقین دہانی

ایک اور رواج یہ ہے کہ مالکان کسی منظم ایسو سی ایشن کے رکن ہوتے ہیں۔ زیادہ تر مالکان اور ان کی ایسو سی ایشنز ٹریڈ یونین کے ساتھ مل کر کام کرنے پر خوش ہیں۔ وہ اسے ایک فائدے کی روح سے دیکھتے ہیں کہ ملازمین فروغ پا رہے ہیں اور کام کی جگہ پر متمعین ہیں۔ اسی دوران، مشترکہ معاہدے اجرت بڑھنے، ہڑتال اور کام کے گھنٹوں کے متعلق استقلال اور منظم ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔

اتحاد کی آزادی

ڈنمارک میں، اتحاد کی آزادی کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انفرادی ملازم کا کام ہے کہ فیصلہ کرے کہ وہ کسی ٹریڈ یونین کی رکنیت اختیار کتے۔ اس وجہ سے، کوئی مالک کسی کو ملازمت دینے یا نہ دینے کے لیے یہ مطالبہ نہیں کر سکتا کہ وہ کسی ٹریڈ یونین کا رکن ہو۔ نہ ہی دوسرے کام کرنے والے ساتھی یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ کوئی کسی خاص ٹریڈ یونین کی رکنیت اختیار کرے۔ بہت سے ملازم کسی ایسی ٹریڈ یونین کی رکنیت اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جس کا مالک کے ساتھ مشترکہ معاہدہ ہو۔

عموماً، ٹریڈ یونین پیشے اور شعبے کے لحاظ سے تقسیم ہوتی ہیں۔ ٹریڈ یونین کے انتخاب کا فیصلہ آخر کار آپ کی تعلیم اور پیشے پر منحصر ہو گا۔ ٹریڈ یونین کے رکن ہونے کے ناطے آپ کو رکنیت کی فیس ادا کرنی ہو گی۔

یونین کے ممبران مظاہرہ کرتے ہوۓ


کام کی جگہ پر زندگی

زیادہ تر لوگوں کے لیے کام کی جگہ ایک خصوصی کردار ادا کرتی ہے۔

ڈنمارک میں کام کی جگہیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود، ان تمام میں ایک بات مشترکہ ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ زیادہ تر لوگوں کی زندگیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک اچھی کام کرنے والی زندگی جس میں دوسرے ساتھیوں کے ساتھ دوستی ہو اور کام کے لیے ایک مثبت ماحول ہو ایک با مقصد زندگی گزارنے کے لیے ضروری حصہ ہے۔

ساتھیوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت

وسیع طور پر، یہ خود ملازمین پر منحصر ہے کہ وہ اپنے کام کی جگہ کو خوشگار بنائیں۔ یہاں، ساتھیوں کے ساتھ تعلقات ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کام کی جگہ پر دعوتیں اور شراب

زیادہ تر کام کی جگہوں پر، کام کے اوقات میں شراب پینا منع ہے۔ لیکن، دورے اور دعوتوں میں شراب پینے کی اجازت ہوتی ہے۔

ذمہ داری اور پہل

زیادہ تر مالک اپنے ملازمین سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ انفرادی طور پر کام کر سکیں اور پہل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہ عام ہے کہ انفرادی طور پر کام کرنے والے ملازمین اپنے کام کے شعبے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ بہت سی کام کی جگہوں پر، ملازمین جماعت میں کام کرتے ہیں تا فیصلہ کریں کے دیے گے کام کو کیسے تقسیم اور سرانجام دینا ہے۔

کام کی جگہ پر مسائل

کام کی جگہ پر کئی مسائل درپیش آ سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ صحت اور حفاظت کے قواعد درست نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے ملازمین کی صحت کا خیال نا کافی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کام کا ماحول تسلی بخش نہ ہو یا آپ کو کسی اذیت، تمسخر یا دھمکی سے گزرنا پڑا ہو۔ ظاہری بات ہے، یہ نا کابل برداشت ہے۔

زیادہ تر کام کی جگہوں پر ٹریڈ یونین کا کوئی نمائندہ* ہوتا ہے

زیادہ تر ملازمین ٹریڈ یونین کے ایک نمائندے کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کے مفاد مالک کے آگے پیش کرتا ہے۔ ٹریڈ یونین کا نمائندہ وہ نمائندہ ہوتا ہے جو کام کی جگہ پر موجود ہوتا ہے۔

اگر آپ کام پر کسی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں یا برا محسوس کر رہے یا بدسلوکی کا شکار ہیں، اپنی ٹریڈ یونین کے نمائندے سے رابطہ کریں۔ وہ آپ کے مسئلے کو مالک یا ٹریڈ یونین کے سامنے اٹھائے گا۔ ٹریڈ یونین کا نمائندہ کام سے نکالے جانے سے محفوط ہوتا ہے اور اس وجہ سے جہگڑوں میں صلاح کرانے کا کام کر سکتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ٹریڈ یونین کا نمائندہ نہیں ہے، آپ کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ٹریڈ یونین سے رابطہ کریں یا منتظمین سے بات کریں۔

کام پر صحت اور حفاظت کو مانیٹر کرنا

کام پر حفاظت اور صحت والے ماحول کا خیال رکھنا مالک اور ملازم دونوں کی ذمہ داری ہے۔ مالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمین کے لیے صحت اور حفاظت کے حالات مہیا کرے۔ ملازم کا فرض ہے کہ حفاظتی قوانین کو پورا کرے جو اس کے کام کی جگہ پر لاگو ہوتے ہیں۔ کام کرنے کی ایسی جگہیں جہاں ۱۰ ملازمین سے زیادہ ہوں وہاں ضروری ہے کہ سیکیورٹی کی تنظیم ہو جس میں ملازمین اور منتظمین کے نمائندے شامل ہوں جو کام پر روزانہ کی صحت اور حفاطت کی ذمہ داری لیں۔ ایسی کام کی جگہیں جہاں ۱۰ ملازمین سے کم ہوں، مالک اور ملازمین مل کر کام پر صحت اور حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔

صحت اور حفاظت کا نمائندہ*

بہت سی کام کی جگہوں پر اپنے صحت اور حفاظت کے نمائندے کا انتخاب کرتے ہیں۔ صحت اور حفاظت کا نمائندہ مدد کے لیے صحت اور حفاظت کو مانیٹر کر کے یقین دہانی کرتا ہے کہ ملازمین خطرناک مشینری یا سازوسامان سے کام تو نہیں کر رہے، یا خطرے سے بھرپور زرائع میں بغیر صحیح حفاظتی سازوسامان کے کام نہ کر رہے ہوں، یا ان کے کام سے ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے کام کرنے کی جگہ پر حالات ویسے نہیں جیسے ہونے چاہیں اپنے صحت اور حفاظت کے نمائندے سے بات کریں ۔ جیسے کہ ٹریڈ یونین کا نمائندہ ایسے ہی صحت اور حفاظت کا نمائندہ بھی نکالے جانے سے محفوط ہے۔

ضروری ہے کہ کام کے دوران حادثہ رپورٹ کیا جائے

تمام مالکان کے لیے اپنے ملازمین کا کام کے دوران حادثے کے خلاف بیمہ کروانا ضروری ہے اور اس بات کی یقین دہانی ہو کہ ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں ڈینش اتھارٹی برائے کام کا ماحول* اور قومی بورڈ برائے صنعتی حادثات کو رپورٹ ہو۔ یہ مالک کی بیمہ کمپنی ہے جو ملازم کو معاؤضہ ادا کرتی ہے۔

آپ ہمیشہ آزاد ہیں کہ قومی بورڈ برائے صنعتی حادثات* کو کام کے دوران حادثے کی رپورٹ کریں۔ یہ اہم ہے کہ آپ ایک سال کے اندر اندر حادثے کی رپورٹ کریں۔ نہ ہونے کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپ کو معاوضہ نہ ملے۔

امتیازی سلوک

یہ خلافِ قانون ہے کہ کسی کے ساتھ جنس، عمر، معذوری، نسل، رنگ، مذہب، سیاسی وابستگی، جنسی رخ، قومیت یا سماجی یا نسلی وابستگی کی وجہ سے امتیازی سلوک کیا جائے۔

ڈینش پالیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا ہے اور ایک کمشن برائے یکساں مواقع تشکیل دیا ہے جو جنسی امتیازی سلوک کے معاملات کو دیکھتا ہے۔ مزید معلومات کے لیے www.ligenaevn.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔ انسٹیٹیوٹ برائے انسانی حقوق نے شکایات کے لیے ایک کمیٹی برائے نسلی یکسانیت تشکیل کی ہے۔ اس کا کام ہے کہ نسلی وابستگی کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے معاملات کی جانچ کرے۔ مزید معلومات کے لیے www.klagekomite.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔

تمام امتیازی سلوک کے معاملات عام عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ کسی ٹریڈ یونین کے رکن ہیں اور کام پر آپ کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے یا جس کا تعلق نئی ملازمت کی تلاش سے ہے، آپ اپنی یونین سے رابطہ کر سکتے ہیں اور مدد طلب کر سکتے ہیں۔

اپنا ذاتی کام شروع کرنا

قواعد اور قوانین

اپنا ذاتی کام شروع کرنے کے لیے بہت سوچ سمجھ اور تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ قواعد اور قوانین ہیں جن سے آپ کو واقف ہونے کی ضرورت ہے۔ مقصد شہریوں اور ملازمین کو حفضان صحت کے خلاف اور کام پر حادثات سے تحفظ فراہم کرنا، اور اس بات یقینی دہانی کرنا کہ تجارتیں ٹیکس اور VAT کا فراڈ نہ کریں۔

شروع کرنے سے قبل مشورہ اور راہنمائی حاصل کریں۔

آپ اپنے مقامی تجارتی فروغ سینٹر، مشیر شروعات، SKAT (ڈینش ٹیکس اتھارٹی) اور اپنے جاب سینٹر سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ بھی آپ کو ایک سرسری مشوروں کا انتخاب اور معلومات برائے قانون، قواعد، سرمایہ اور دوسرے مضامین جن کا تعلق تجارت کے آغاز سے ہو، فراہم کر سکتا ہے۔ مزید معلومات کے لیے www.virk.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔

مرد نماءش کی کھڑکی کو زینت دیتے ہوۓ


آپ کا بے روزگاری فنڈ بھی آپ کو مشورہ دے سکتا ہے کہ آپ کے ذاتی کاروبار شروع کرنے سے کیسے آپ کا بے روزگاری وظیفہ* اثر انداز ہو گا اور آپ اس کا مطالبہ کرنے کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔

کمپنی رجسٹریشن

عام قاعدے کے تحت، تمام کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈینش کامرس اور کمپنیز ایجنسی کے ساتھ رجسٹر ہوں۔ تاہم یہ اختیاری ہے، اگر آپ کی سالانہ آمد DKK 50,000 سے کم ہے۔ ایک بار آپ کی کمپنی رجسٹر ہو جائے تو آپ کو CBR نمبر( سینٹرل بزنس رجسٹر) ملے گا، جو کمپنی کی پہچان کا نمبر ہو گا۔ آپ کو CBR نمبر کی ضرورت پڑے گی، مثلاً، جب آپ ٹیکس اور VAT کے گوشوارے جمع کروائیں گے۔ آپ اپنی کمپنی www.eogs.dk پر رجسٹر کر سکتے ہیں۔

تجارت اور شراب کا لائسنس

تمام وہ کمپنیاں جو سالانہ DKK 50,000 کی مالیت کی کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرتی ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خصوصی بزنس کے طور پر رجسٹر ہوں۔ اس معاملے میں، کھانے پینے کی اشیاء سے مراد کوئی بھی کھانے پینے کی اشیاء بیئر، وائن، سافٹ ڈرنک اور دوسری کھانے کی اشیاء باوجود اس کے کہ وہ بند پیکنگ میں ہوں یا نہ ہوں۔

ڈینش کیٹرنگ اور ریستوران ایکٹ تمام ایسے خود کام مہیا کرنے والے کاروبار پر لاگو ہوتا ہے جو کھانے اور پینے کی اشیاء پیش کرتے ہیں۔ ایسے بزنس ریستوران، بار، ڈسکو، پیزا، گرل بار اور ہاٹ ڈاگ سٹینڈ ہو سکتے ہیں۔

جب کوئی شخص یا کمپنی تجارت یا شراب کے لائسنس کے لیے درخواست دیتی ہے تو ڈینش کیٹرنگ اور ریستوران ایکٹ یہ عائد کرتا ہے کہ کون سے قواعد پر عمل کرنا ضروری ہو گا۔ اگر آپ شراب کا لائسنس لینا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کے آپ عمر کی شرط پر پورا اتریں اور کوئی مالی تجارتی منصوبہ پیش کر سکیں۔

پولیس کی ذمہ داری ہے کہ تجارتی لائسنس کا اجراء کرے جس میں شراب کا لائسنس شامل نہ ہو جبکہ میونسپل اتھارٹی شراب کے لائسنس کا اجراء کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اس کے باوجود کوپن ہیگن میں تجارت کے لیے میونسپل اتھارٹی لائسنس کا اجراء کرتی ہے۔

کوئی بھی ریستوران شراب کے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتا ہے، اور ضروری ہے کہ ریستوران کا باورچی خانہ اتھارٹی صحت کی شرائط پوری کرے۔

ٹیکس اور VAT

ضروری ہے کہ تجارت اور بزنس کے اکاؤنٹ ڈینش ٹیکس اتھارٹیز کو مہیا کریں، جس کو SKAT کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ملازمین کی بیمہ پالیسی

اگر آپ کی کمپنی کوئی ملازم رکھتی ہے، ضروری ہے کہ اس کی بیمہ پالیسی کروائیں تا اسے تحفظ فراہم کر سکے۔

Mansur Sheik

اب میرے دو ملازم ہیں

منصور شیخ صومالیا سے ڈنمارک ۱۹۹۳ میں آئے۔ انہوں نے مستری کی تربیت حاصل کی اور اب وہ اپنا ذاتی کام کرتے ہیں۔

میں نے خود کام کرنے کا فیصلیہ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں کئی سال تک سوچا۔ میں سوچتا تھا کہ ایک مسئلہ بن سکتا ہےکیونکہ ڈینش لوگوں کو یہ عادت نہیں کہ وہ کسی مہاجر کو ذاتی طور پر کام کرنے والے مستری کے روپ میں دیکھیں۔ لیکن وہ صورت حال نہیں ہوئی۔ گاہک خوش ہیں جیسے آپ اپنے کام میں اچھے ہیں اور آپ اپنی طرف سے اتنا بہترین کریں جتنا کر سکتے ہیں۔ میرے کام کی وجہ سے میرے بہت سے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، میں نے یہ دریافت کیا ہے کہ ڈینش ایسے ہی مختلف ہیں جیسے کوئی دوسرا۔

اب میرے دو ملازم ہیں، ایک ڈینش اور ایک ویت نامی، اور میں مالک بن کر بہت خوش ہوں۔ میرا مشورہ ہے: جو آپ ہیں وہ رہیں۔ بہت سے مہاجرین ناکام ہونے سے ڈرتے ہیں؛ اس کی ضرورت نہیں۔ ہمارے لیے جگہ ہے۔"







آخری تازہ ترین: 20/03/2009
نے شائع کیا: وزارت پناہ گزین، مہاجرین اور انٹرگريشن امور
پپورٹل کے حصے دار شریک پناہ گزین، تارک وطن اور انضمام وسائل کے معاملات کی وزارت – دی ڈینش امیگریشن سروس