سامنے کے صفحہ کو کی طرف

7 اسکول اور تعلیم



با ب 7 ۔ سکول اور تعلیم


پوری زندگی سیکھیں

عام تعلیم

ڈنمارک میں عام تعلیم* کی روایت ہے جو اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ ڈنمارک کی جمہوریت خود ہے۔ یہ اس یقین کے ساتھ مانا جاتا ہے کہ ایک عمدگی سے چلتے ہوئے معاشرے کے لیے ایک اچھی باخبر آبادی ہونا ضروری ہے۔

ہر کسی کو زندگی بھر علم حاصل کرنے کی سہولت میسر ہے۔ صرف تعلیمی نظام کی حدود تک ہی نہیں بلکہ ثقافتی ہائی اسکول یا نائٹ اسکول* جا کر، ریڈیو یا ٹی وی پر تعلیمی پروگرامز کی پیروی کرتے ہوئے یا کام پر تربیتی کورسز کرتے ہوئے۔

لازمی تعلیم

نو سال کی لازمی تعلیم ڈنمارک کی پالیسی ہے۔ بچوں کی تعلیم و تدریس کا عمل سات سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن، بہت سے بچے چھ سال کی عمر سے پری اسکول کی کلاس شروع کر دیتے ہیں۔

زیادہ تر لوگ نو سال کی لازمی تعلیم کے بعد بھی اپنی پڑھائی جاری رکھتے ہیں۔

نو سال کی پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کے بعد، یہ ہر ایک کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ مزید تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ بتانے کے بعد، کم تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے ملازمت کے بہت ہی کم مواقع ہیں اس لیے زیادہ تر نوجوان بزنس کی تعلیم یا اپر اسیکنڈری اسکول کی تعلیم کو حاصل کرتے ہیں۔ جس کے بعد کم، درمیانے اور لمبے عرصے کی مزید تعلیم ہوتی ہے۔

رفاقت اور باہمی تعاون

ڈینش تعلیمی نظام کی بنیاد آزادی اوراپنا فیصلہ خود کرنے کے حق کے اعلٰی درجہ پر مبنی ہے۔ شروع کی جماعتوں سے لے کر یونیورسٹی تک، طلباء اسکول اور تعلیم کے بارے میں فیصلہ کرنے میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اور اساتذہ ان سے یہ کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

تدریس نہ صرف تعلیمی فہم پر بلکہ طالب علم کی تبادلہ خیالات اور شراکتی صلاحیت کو فروغ دینے پر بھی زور دیتی ہے۔ پری اسکول سے ہی، اساتذہ بچوں کو گروپ میں پڑھاتے ہیں اور مل کر مقررہ کاموں کو حل کرنے میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اعلٰی تعلیمی اداروں میں، طلباء اکثر مل کر ان کے ذمہ سپرد کیا گیا کام کرتے ہیں اور تعلیمی گروپ میں ذاتی طور پر مل کر کام کرتے ہیں۔

پہلی جماعت کے بچے


ڈینش تعلیمی نظام

تعلیمی نظام کا تصویری خاکہ


پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول

میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول اور پرائیویٹ اسکول

ڈینش میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول میں تمام بچے مفت پڑھائ حاصل کرتے ہیں۔ اس پڑھائ میں ایک سال کی پری اسکول کلاس اور اس کے بعد نو سال کی پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول اور ایک دسویں کلاس جو اختیاری ہے شامل ہے۔

میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کے علاوہ، علیحدٰہ اور آزاد پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول اور پرائیویٹ اسکول ہیں جس کی پڑھائ فیس والدین ادا کرتے ہیں۔ پرائیویٹ آزاد پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کا کام کرنے کا طریقہ میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول سے مختلف ہو سکتا ہے، لیکن تعلیمی اور معاشرتی نقطہ نگاہ سے، بچے ایک ہی چیز سیکھتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.friskoler.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔

آپ نے خود بچے کو سکول میں داخل کروانا ہے

بچے خود بخود میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول جاتے ہیں جہاں خاندان کی رہائش ہوتی ہے۔ جب بچہ اسکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہے، تو والدین کو اسکول کی طرف سے ایک خط ملتا ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ نے کب بچے کو اسکول میں داخل کروانا ہے اور اسکول کا دورہ کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ آپ کسی دوسرے میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول یا پرائیویٹ آزاد پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں، یہ آپ پر منحصر ہے کہ اپنی مرضی کے اسکول سے رابطہ کریں۔

اسکول شروع کرتے وقت کیا مدِنظر رکھنا ہو گا

اس سے پہلے کہ بچہ اسکول جانا شروع کرے، آپ کو ایک خط ملے گا جس میں ان عملی اشیاء کی فہرست ہو گی جن کی آپ کے بچے کو اسکول میں ضرورت پڑے گی، جیسے اسکول کا ایک بستہ، لکھنے کی اشیاء اور ایک کھانے کا ڈبہ۔

بڑے سکول کے بچوں کی تصویر

میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کے مقاصد

ڈینش پرائمری اور لوئر اسیکنڈری تعلیم کی بنیاد ڈینش تعلیمی ایکٹ کے پر ہے۔ اس کے پیش لفظ میں، پرائمری اور لوئر اسیکنڈری تعلیم کے مقاصد کے بارے میں مندرجہ ذیل بیان ہے:

" § 1. سیکشن ۱۔ والدین کے ساتھ، پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول بچوں کو علم و فہم اور صلاحیتیں مہیا کرے گا جو: انہیں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیار کریں اور ان میں مزید علم حاصل کرنے کی خواہش پیدا کریں،انہیں ڈینش تہذیب اور تاریخ سے آشنا کریں، انہیں دوسرے ممالک اورتہذیبوں کو سمجھنے کی صلاحیت عطا کریں، انہیں انسان کے ماحول سے جو تعلق ہے اسے سمجھنے میں ان کی مدد کریں اور طالب علم کی ہر شعبے میں انفرادی نشوونما کو فروغ دیں۔

سیکشن 2۔ پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کو کام کرنے کے طریقوں کو ترقی دینی چاہیے اور ایک کام کرنے کا نظام بنانا چاہیے جو تجربہ، جذب کرنے کی صلاحیت اور عزم کو فروغ دے تاکہ طلباء اپنے تصورات ، پہچان کی صلاحیت اور خود اعتمادی کو فروغ دیں، تاکہ وہ کسی مقام پر پہنچنے اور اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔

سیکشن 3۔ پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کو طلباء کو ایک آزاد اور جمہوری معاشرے میں حصہ داری، مشترکہ ذمہ داری، حقوق اور فرائض کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ اس لیے اسکول کی سرگرمیوں کو ذہنی آزادی، برابری اور جمہوریت*کی خصوصیات پر مبنی ہونا چاہیے۔



والدین اثروسوخ رکھتے ہیں

قطع نظر اس کے کہ بچہ کسی میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول یا کسی پرائیویٹ آزاد اسکول میں جاتا ہے، والدین اسکول کی سطح پر اثر رسوخ حاصل کر سکتے ہیں اور مشترکہ طور پر بچے کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار بن سکتے ہیں۔ پرائیویٹ آزاد اسکول خود مختار ادارے ہوتے ہیں جنہیں والدین کا ایک منتخب شدہ بورڈ چلاتا ہے۔ پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکولوں کا ایک بورڈ ہوتا ہے جس میں اسکول کے نمائندے اور والدین کے منتخب شدہ نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ میونسپل اتھارٹیز بھی اساتذہ اور والدین کے نمائندوں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ میونسپل اتھارٹیز کے پاس اسکول کے معاملات کی تمام تر ذمہ داری ہوتی ہے۔

اسکول-گھر تعاون

اسکول بھی ہر بچے کے والدین کے ساتھ مثبت رابطہ رکھنے پر زور دیتا ہے تاکہ بچے کو اسکول میں اچھی کارکردگی کے مواقع مل سکیں۔ ہر سال، آپ کو اسکول-گھر اجلاس میں شامل ہونے دعوت دی جائے گی جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچے کی کارکردگی اسکول میں کیسی ہے، بچے کی تعلیم کیسی جا رہی ہے، بچے کا گھر کا کام اور کلاس میں توجہ کیسی ہے۔

والدین اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکتے ہیں یا ان والدین سے رابطہ کر سکتے ہیں جو اساتذہ کے ساتھ مل کر والدین-اساتذہ مجالس یا دوسری تقریبات کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسکول-والدین تعاون موضوعی شاموں یا ورکشاپ کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ یہ ہر اسکول میں دوسرے سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ تعاون کا مقصد یہ ہے کہ والدین کو اپنے بچے کی اچھی کارکردگی اور تعلیم و تربیت میں حصہ لینے کا موقع ملے۔

تدریس

پری اسکول کلاس

پری اسکول کلاس میں، بچے حروف تہجی اور گنتی سیکھتے ہیں۔ وہ ذخیرہ الفاظ، خیالات اور کام کرنے کے طریقے سیکھتے ہیں ضروری موضوعات کے احاطے میں رہتے ہوئے، اور کھیل اور تدریس کے ذریعہ وہ اسکول کے معمول اور جماعتی عزم سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ قاعدے کے تحت، پری اسکول کلاس والے بچے پہلی جماعت میں بھی اکٹھے رہیں گے۔

بچے ایک ہی کلاس میں اکٹھے رہتے ہیں۔

ڈینش تعلیمی نظام قدرتی طور پر جامع ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بچے اسکول کی تعلیم کے دوران ایک ہی جماعت اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

اساتذہ اور دو شاکرد


Sabah Eltawi

یہ سب ہمارے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہے

صباہ الاوی 1990 میں فلسطین سے ڈنمارک آئی۔ وہ پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کی استانی ہے اور دو بچوں کی ماں۔

والدین-اساتذہ مجالس میں شامل ہونا اور اسکول-والدین تعاون میں اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے تاکہ ہر قسم کی تبدیلی سے باخبر رہ سکیں اور ڈینش اور عرب معاشرے کے درمیان تعلق قائم کر سکیں۔ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہے آپ دوسرے والدین کو جاننا شروع کرتے ہیں اور موقع ملتا ہے کہ اپنے بچے کی تعلیم و تربیت میں اثر رسوخ رکھیں۔ آپ کو وسیع النظر ہونا چاہیے اور لوگوں کو اپنی سوچ سے آگاہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ان کو بتائیں کہ آپ کیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ کو دوسروں سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔ اور سب سے زیادہ اہم، ضروری ہے کہ آپ زبان سیکھیں تاکہ آپ ڈینش لوگوں کو بہترطور پر جان سکیں اور اسی طرح وہ بھی۔



ریاضی، زبانیں، معاشرتی علوم اور سائنس

قانون یہ کہتا ہے کہ طلباء کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ چیزیں اسکول میں سیکھیں۔ مزید، یہ ہر اسکول کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ کیسے تدریس کو منظم کرے۔

پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول میں، بچے ریاضی، زبانیں، معاشرتی علوم اور سائنس سیکھتے ہیں۔ وہ ڈینش تہذیب و ثقافت اور تاریخ کے بارے میں بھی اور دوسرے ممالک اوران کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں بھی علم حاصل کرتے ہیں۔

اسکول کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ شاگرد کی نشو نما کو مضبوط بنائے اور ان کے تخیل اور اور علم کی خواہش کو فروغ دے۔

نیشنل ٹیسٹ

اسکول کی تعلیم کے دوران، تمام طلباء مختلف مضامین میں امتحانات کا سلسلہ مکمل کرتے ہیں۔ یہ امتحانات جماعتوں اور مضامین کے لحاظ سے تقسیم کیے جاتے ہیں:

دوسری جماعت:ڈینش/مطالعہ
تیسری جماعتریاضی
چوتھی جماعت:ڈینش/مطالعہ
چھٹی جماعت:ڈینش/مطالعہ اور ریاضی
ساتویں جماعت:انگریزی
آٹھویں جماعت:ڈینش/مطالعہ، جغرافیہ، بیالوجی اور فزکس/کیمیا

پانچویں اور ساتویں جماعتوں میں دوسری زبان کے طور پر ڈینش زبان کا رضاکارانہ امتحان بھی ہوتا ہے۔

امتحانات کا مقصد یہ جانچ کرنا ہے کہ بچوں نے پڑھائ سے کیا سیکھا ہے۔ نتائج تدریسی سلیبس تیار کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ہر شاگرد کی قابلیت کے مطابق ہو۔

شاگرد کے لیے تحریری منصوبے

شاگردی منصوبے میں یہ معلومات ضرور ہونی چاہیئں کہ سارے سال میں طالب علم نے سلیبس سے جو فائدہ اٹھایا ہے اس کی جانچ کیسے کی گئی ہے۔ شاگردی منصوبے میں یہ بیان ہونا بھی ضروری ہے کہ استاد اور طلباء نتائج کی پیروی کیسے کریں گے۔ شاگردی منصوبے کو سال میں کم از کم ایک بار تیار کرنا ضروری ہے اور اس میں پڑھائے گئے تمام مضامین شامل ہونا ضروری ہیں۔ شاگردی منصوبہ والدین کو بھیجنا ضروری ہے۔ منصوبے میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ والدین کس طریقے سے اپنے بچے کی مثبت تعلیم و تربیت میں حصہ لے سکتے ہیں اور اسکول میں بچے کے رویے اور اچھی کارکردگی کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں۔

بڑی جماعتوں کے گریڈ

صرف آٹھویں، نویں اور دسویں کے شاگرد گریڈ لیتے ہیں۔

کم از کم سال میں دو بار، طلباء ان مضامین میں گریڈ لیتے ہیں جن میں انہوں نے فائنل امتحان دینا ہو گا۔ وہ مضامین یہ ہیں:

  • ڈینش
  • ریاضی
  • انگریزی
  • جرمن
  • فرینچ
  • فزکس/کیمیا
  • بیالوجی
  • جغرافیہ
  • تاریخ
  • معاشرتی علوم
  • کرسچیئن تعلیم
  • سوئی کا کام
  • لکڑی کا کام
  • گھریلو سائنس
ایک ہی جماعت کا لڑکا اور لڑکی


لڑکے اور لڑکیوں کے لیے ایک جیسے مضامین

لڑکے اور لڑکیوں کو ایک ہی مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ تعلیمی مضامین کے لیے بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے جیسے ڈینش، انگریزی، معاشرتی علوم اور ریاضی اور تخلیقی مضامین۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں سلائی، کھانا پکانا اور اوزار استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔ لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے کھیلتے ہیں لیکن کپڑے بدلنے اور نہانے کے لیے علیحدہ ہوتے ہیں۔

کرسچیئن تعلیم اور دوسرے مذاہب

کرسچیئن تعلیم عیسائیت کے بارے میں عام سوالات کے متعلق بتاتی ہے اور اسی طرح دوسرے مذاہب اور زندگی کے بارے میں۔

تدریس مذہب کی تبلیغ نہیں کرتی لیکن صرف عیسائیت اور دوسرے مذاہب کے بارے میں آگاہ کرتی ہے۔ تعلیم بچوں کو مذہب کی جدید معاشرے میں اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

آپ کا بچہ کرسچیئن تعلیم کی تعلیم سے مستثنٰی ہو سکتا ہے۔ اپنے بچے کے اسکول سے پوچھیے۔

جنسی تعلیم

بچوں کو اسکول میں جنسی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں، وہ سیکھتے ہیں کہ جسم کیسے کام کرتا ہے۔ وہ محبت اور پیار ہونے کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ اور سنتے ہیں کہ بچے اور مانع حمل کیسے ہوتا ہے۔

جنسی تعلیم ایسا مضمون ہے جو اسکول کے ٹائم ٹیبل میں شامل نہیں۔ باوجود اس کے کہ صحت، جنسی تعلیم اور خاندانی زندگی لازمی مضامین ہیں۔ یہی ٹریفک کے اصول اور تعلیم اور پیشہ رخ پر لاگو ہوتا ہے۔

آلاؤ کے پاس شاگرد

محفوظ جگہ پر اسکول کیمپ

اسکول کیمپ اسکول کی تعلیم کا ایک حصہ ہے، بچوں کو ٹھوس تجربے حاصل کرنے جا موقع فراہم کرتا ہے۔ اساتذہ تدریس، رہنمائ اور بچوں پر نظر رکھتے ہیں۔

اساتذہ والدین کے ساتھ عملی سوالات پر بحث کرتے ہیں جیسے کھانا اور گھر سے دور سونا تاکہ وہ اپنے بچوں کو سیر وتفریح کے لیے جاتے ہوئے محفوظ سمجھیں۔



فیصلوں میں حصہ اور جمہوریت

اسکول کا کام ہے کہ بچوں ایک آزاد، جمہوری معاشرے میں زندگی کے لیے تیار کرے جو ذمہ داری اور مساوات کا سبق دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فیصلہ کرنے میں حصہ لینا اور ذمہ داری لینا سیکھتے ہیں۔

شاگردی کونسلز کو سنا جاتا ہے

بچے اپنی رائے کا اظہار کرنا سیکھتے ہیں۔ وہ شاگردوں کی کونسل بنا سکتے ہیں جس سے مشورہ لیا جاتا ہے جب اسکول کے بارے میں اہم فیصلے کرنے ہوں۔

اسکول کیمپ

اسکول کیمپ ایک جماعتی دورہ ہوتا ہے جس میں تعلیمی مواد شامل ہوتا ہے۔ اسکول کیمپ ہمیشہ کئی دنوں پر محیط ہوتا ہے ۔ شاگرد اپنے کچھ اساتذہ کے ساتھ اسکول چھوڑ کر کئی دن اکٹھے رہتے ہیں، مثال کے طور پر، اسکاؤٹ ہٹ یا ملتی جلتی جگہوں پر جو تدریس، معاشرتی اجتماع اور رات ٹھہرنے کے لیے جگہ فراہم کرتی ہیں۔ اسکول کیمپ سلیبس کا ایک حصہ ہے۔ یہ جماعت کی معاشرتی زندگی اور شاگردوں کی رفاقت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جانے سے پہلے، بچوں کو متن پڑھ کر، معلومات اکٹھی کر کے، تعلیمی موضوعات پر سپرد کیا گیا کام اور مضامین مکمل کر کے جو دورے سے متعلق ہوں، تیاری کرتے ہیں۔

اسکول کیمپ میں بچے اکٹھے کھانا پکائیں گے، بس پر سفر کریں گے اور سائیکل چلائیں گے، عجائب گھر دیکھیں گے، نظارے لیں گے اور ساتھ رہیں گے، الاؤ جلائیں گے، سیر کریں گے اور اکٹھے کھیلیں گے۔ لڑکے اور لڑکیاں علیحدہ کمروں میں سوتے ہیں۔

اسکول کیمپ کی باقاعدگی اور مدت ہر اسکول میں مختلف ہوتی ہے۔ تاہم، دوروں میں ہمیشہ کئی راتیں باہر گزارنا شامل ہوتا ہے۔

ڈینش دوسری زبان کے طور پر

تین سال کی عمر سے، دو زبانیں بولنے والے بچوں کو جہاں ضرورت ہو ڈینش سیکھنے کے لیے مدد مل سکتی ہے۔ یہ سروس میونسپل اتھارٹی کی طرف سے مہیا کی جاتی ہے اس بات کی پیروی کرتے ہوئے کہ زبان کے ماہر نے جانچا ہو کہ پچے کی زبان کو بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ سروس خصوصی نرسری یا ڈے کئیر میں سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ بچے جن کی دیکھ بھال گھروں پر کی جاتی ہے انہیں ہفتے میں ۱۵ گھنٹوں کی زبان کی روانی کی کلاس دی جاتی ہے۔

جب دو زبانیں بولنے والا بچہ پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول شروع کرتا ہے،تو ایک جانچ کی جاتی ہے یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ آیا بچے کو ڈینش بطور دوسری زبان، میں مدد کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ اگر ضروری ہو،تو بچہ ڈینش زبان میں اپنے طور پر یا دوسرے اسکول میں خصوصی تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو یہ پری اسکول کلاس سے دسویں کلاس تک میسر ہو گا۔

مادری زبان کی پڑھائ

میونسپل اتھارٹی کے لیے ضروری ہے کہ شاگردوں کو جو گرین لینڈ اور جزائر فارو سے ہوں انہیں ان کی مادری زبان سکھائیں اور ان شاگردوں کو جن کے والدین کو یورپی یونین یا EEA کے شہری ہوں۔ لیکن یہ تدریسی عمل تب ہو گا اگر رجسٹرڈ شاگردوں کی تعداد کافی ہو۔

میونسپل اتھارٹیز دوسرے ممالک کے شاگردوں کو رضاکارانہ طور پر مادری زبان سکھا سکتی ہیں۔ میونسپل اتھارٹیز اس سروس کی فیس بھی لے سکتی ہیں۔

اگر پڑھائ میں بچہ ساتھ نہیں چل رہا

اگر آپ کا بچہ پڑھائ میں ساتھ نہیں چل رہا تو وہ اضافی یا خاص تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ یہ اسکول کے اوقات کے دوران یا فوراً بعد ہو سکتا ہے۔ اس کے متعلق امکانات کے بارے میں جماعت کے استاد سے بات کریں۔

اختتامی امتحانات

شاگرد پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول نویں جماعت کے امتحان کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دسویں جماعت بھی کرنا چاہیں، اس کے لیے بھی اختتامی امتحان ہوتا ہے۔ اس کے بعد، شاگرد تجارتی تربیت کا کورس حاصل کر سکتے ہیں یا اپر اسیکنڈری تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

بورڈنگ اسکول

شاگرد اسکول میں رہتے ہیں

بہت سے نوجوان ایک یا زیادہ سال کے لیے آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت میں جاری اسکول میں جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جاری اسکول مفت بورڈنگ اسکول ہوتے ہیں جہاں شاگرد رہائش پزیر ہوتے ہیں۔ جاری اسکولوں میں شاگردوں کو پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول ختم کرنے کے لیے متبادل طریقوں کی پیشکش کی جاتی ہے۔ بہت سے نوجوان جاری اسکولوں کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ وہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں یا کیونکہ وہ کچھ عرصے تک گھر سے دور رہنا چاہتے ہیں۔

آپ کو جانے کے لیے پیسے دینے ہونگے

بورڈنگ سکول پر شاگرد


انسانی ترقی

تدریسی اور سماجی میل جول کے ذریعہ جاری اسکولوں کو شاگردوں کو زندگی کا علم و فہم، عام معلومات اور جمہوری ترقی کے خیال کو پختہ کرنا چاہیے اور شاگرد کی نشوو نما، انسانی ترقی اور پختگی کے مقاصد حاصل کرنا سکھائیں۔ اس وجہ سے، بہت سے جاری اسکول تخلیقی اور عملی مضامین پر زور دیتے ہیں جیسے ڈرامہ، موسیقی، کھیل، فوٹوگرافی، کھیتی باڑی اور مختلف قسم کی دستکاریاں۔ لیکن ان کے تدریسی مقاصد میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکولوں کے جیسے ہوتے ہیں اور زیادہ تر جاری اسکولوں کے شاگرد اپنی نویں اور دسویں کے اختتامی امتحانات میں بیٹھ سکتے ہیں۔ کچھ خصوصی جاری اسکول علاج کے لیے ہدایات پیش کرتے ہیں، مثال کے طور پر، ڈسلیکسک شاگردوں کے لیے۔

جاری اسکول میں رہنا شاگرد کی تعلیمی ترقی کو بہتر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، انہیں گھر کے کام میں مدد اور ڈینش کے لیے اضافی پڑھائ مل سکتی ہے۔ جاری اسکول میں رہنا بھی نوجوانوں کی تعلیم اور سماجی نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے ایک اچھا راستہ ہے۔

مزید معلومات کے لیے www.efterskole.dk پر جائیں۔

اسکول کے اوقات کے بعد

آفٹر اسکول سینٹرز اور آفٹر اسکول کئیر اسکیم

بچوں کی اسکول کے بعد دیکھ بھال کے لیے آفٹر اسکول سینٹر یا آفٹر اسکول کئیر اسکیم (ایس ایف او) ہے جب تک کہ وہ تیسری یا چوتھی جماعت شروع نہ کر دیں۔ یہاں، بچے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں، کام کر سکتے ہیں اور کئی دوسری سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ آفٹر اسکول سینٹر اور ایس ایف او روزانہ کھلتے ہیں اور شام پانچ یا چھ بجے تک کھلے ہوتے ہیں۔

آفٹر اسکول سینٹر یا ایس ایف او اسکیم میں جگہ کے لیے آپ کو اپنی میونسپل اتھارٹی میں درخواست دینا ہو گی۔ یہ ضروری ہے کہ آپ اس سروس کا خرچ برداشت کر سکیں، بجز اس کے کہ آپ کو مفت جگہ فراہم کی گئی ہو۔ آپ مفت جگہ کے لیے اپنی میونسپل اتھارٹی میں درخواست دے سکتے ہیں۔

سکول کے کام کے لیے مدد

بہت سی میونسپیلیٹیز میں، اسکول، لائبریری اور مقامی ادارے مل کر کام کرتے ہیں تاکہ وہ بچے جنہیں گھر کے کام میں ضرورت ہو مدد مل سکے۔ اپنے اسکول، لائبریری یا میونسپل اتھارٹی سے رابطہ کریں۔

بڑے بچوں کے لیے کلب

کچھ میونسپل اتھارٹیز میں تفریحی کلب بھی موجود ہیں۔ بچے کلب میں اس وقت جا سکتے ہیں جب وہ آفٹر اسکول سینٹر یا ایس ایف او اسکیم سے فارغ ہوں۔

یوتھ اسکول

تمام میونسپل اتھارٹیز میں ۱۴ سے۱۸ سال کی عمر کے بچوں کے لیے یوتھ اسکول ہوتے ہیں۔ یوتھ اسکول فارغ وقت میں اضافی تعلیم مہیا کرنے کا داستہ ہے۔ اس میں داخلہ مرضی سے لے سکتے ہیں اور اس کی ٹیوشن مفت ہے۔ یوتھ اسکول دوپہر اور شام کو کھلے ہوتے ہیں، اور یہاں تعلیمی اور تخلیقی مضامین رکھنا ممکن ہے جیسے موسیقی، فوٹوگرافی اور کوزہ گری، آئی ٹی کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں اور ہدایت لے سکتے ہیں کہ موپڈ کو کیسے چلاتے ہیں۔ آپ نوجونوں سے ملنے بھی جا سکتے ہیں اور گپ شپ لگا سکتے ہیں۔ بہت سے اسکول جمعہ کے دن دعوتیں منعقد کرتے ہیں۔

یوتھ اسکول میں مکمل اسکول کا ٹائم ٹیبل ہو سکتا ہے اور پرائمری اور اسیکنڈری اسکول جیسے امتحانات میں بیٹھنے کا اختیار بھی۔ کچھ میں کلب اور دوسری تفریحی سرگرمیاں ہوتی ہیں، ان میں سے کچھ ایسی ہیں جن میں حصہ لینے کے لیے فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ اپنی میونسپل اتھارٹی، یوتھ اسکول یا یوتھ تعلیمی راہنمائی کی سروس سے رجوع کریں۔

سکیٹ بورڈ پر لڑکا


پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کے بعد

یوتھ ایجوکیشن

ایک بار جب آپ اپنی بنیادی تعلیم نویں یا دسویں جماعت مکمل کر لیں، آپ یوتھ ایجوکیشن میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ یوتھ ایجوکیشن پروگرام ایسے کورس ہیں جو تعلیم کی تیاری یا پیشہ ورانہ پروگرام جو عام طور پر تین یا چار سال تک کا ہوتا ہے، مہیا کرتے ہیں۔ یہ پروگرام مفت ہوتے ہیں اور 18 سال سے زیادہ عمر کے طالباء ایس یویعنی تعلیمی معاوضے کے لیے درخواست دے سکتا ہیں

ریاستی تعلیمی گرانٹ اور قرضہ اسکیم

ریاست کی طرف سے ایس یو، طلباء کے لیے تعلیم کے دوران ایک مالی امداد کا ذریعہ ہے۔ ایس یو ایک مفت گرانٹ ہے، لیکن اس پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ اس گرانٹ کے بارے میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، طالباء قرضہ لے سکتے ہیں جو تعلیم کے اختتام پر واپس کرنا ہو گا۔ ایس یو کے اہل ہونے کے لیے، جو تعلیم جو آپ نے شروع کی ہے وہ ریاست کی طرف سے منظور شدہ ہونی چاہیے، اور آپ کو یہ حق نہیں کہ ریاست کی طرف سے کوئی اور امداد لے رہے ہوں جو آپ کے اخراجات پورے کر رہی ہو۔

ااگر آپ کے پاس ڈینش شہریت نہیں

اگر آپ کے پاس ڈینش شہریت نہیں توآپ ڈینش ایجوکیشنل سپورٹ ایجنسی کو درخواست دے سکتے ہیں کہ داخلے سے پہلے آپ کو ڈینش شہریت رکھنے والوں کے شانہ بشانہ کھڑا کیا جائے۔

یہ ممکن ہے اگر، مثال کے طور پر، آپ ڈنمارک میں اپنے والدین کے ساتھ اپنی بیسویں سالگرہ سے پہلے آئے اور یہاں رہائش اختیار کی، اگر آپ کسی ڈینش شہری سے شادی شدہ ہیں اور ملک میں کم از کم ۲ سال سے رہتے ہیں، یا آپ نے کہیں ملازمت کی ہے تعلیم شروع کرنے سے قبل۔

اگر آپ یورپی یونین یا EEA کی شہریت رکھتے ہیں تو، آپ درخواست دے سکتے ہیں تا یورپی یونین کے قواعد کے مطابق آپ کے ساتھ ڈینش شہریت رکھہے والے افراد جیسا برتاؤ کیا جائے۔ مزید معلومات کے لیے www.su.dk پر دیکھیں۔ زیادہ تر ایس یو کے قواعد وہی ہیں جو تعلیم سے مبرا ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں یوتھ ایجوکیشن پروگرام اور مزید ایجوکیشن میں مختلف ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.su.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔

کوئی بھی کورس اور تعلیم پر اثر انداز ہو سکتا ہے

تمام تعلیمی اداروں میں، شاگرد اور طالباء مختلف تنظیمیں قائم کر سکتے ہیں - طالباء تعلیمی کونسلز، طالباء کونسلز یا شاگرد کونسلز۔ یہ تنظیمیں طلباء کے مفاد کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور تعلیم و تربیت کی بہتری کے حوالے سے مطالبات کرتی ہیں۔ ہر ایک کے لیے ممکن ہے کہ وہ طلباء یا شاگرد کی کونسل کے الیکشن میں کھڑا ہو کر اپنی تعلیم و تربیت پر اثر کر سکے۔

اپر اسیکنڈری اسکول تعلیم

دو سے تین سال

اپر اسیکنڈری تعلیم دو سے تین سال کے لیے ہوتی ہے اور اعلٰی تعلیمی پروگرام کے لیے رسائی فراہم کرتی ہے۔

کالج فارغ کرنے والے طلباء کالج ٹوپیوں کے ساتھ


اپر اسیکنڈری اسکول تعلیم میں شامل ہے:

  • ، جو تین سالہ کورس ہے اور یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان دینے پر ختم ہوتا ہے۔ کچھ اسکولوں میں (کورس)، دو سال کی کل وقتی پڑھائی کر کے پروگرام مکمل ہو سکتا ہے۔ پروگرام کا مقصد طلباء کو اعلٰی تعلیم کے لیے تیار کرنا ہے۔ پروگرام عام تعلیم بھی مہیا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاگردوں کو باہر کی دنیا، ان کے رفاقت کاروں، قدرت، معاشرے اور اپنینشو نما کے بارے میں فہم حاصل کرنا ضروری ہے۔ قبول کیے جانے کے لیے، یہ ضروری ہے کہ میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کا نویں جماعت کا حتمی امتحان پاس کیا ہو۔ آپ کوکہا جا سکتا ہے کہ داخلے کے امتحان میں بیٹھیں، یا اپر اسیکنڈری اسکول آپ کے تعلیمی معیار کی بنیاد پر آپ کو تسلیم کر سکتا ہے۔
  • جو دو سال کا کورس ہے۔ پروگرام کا مقصد طلباء کو اعلٰی تعلیم کے لیے تیار کرنا ہے۔ پروگرام کا مقصد یہ بھی ہے کہ وہ عام تعلیم مہیا کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاگردوں کو باہر کی دنیا، ان کے ہم افراد، معاشرے اور اپنی نشوو نما کے بارے میں فہم حاصل کرنا ضروری ہے۔ قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کی دسویں جماعت یا اس کے مساوی تعلیم مکمل کریں۔ یا آپ کو داخلے کا ایک خصوصی امتحان پاس کرنا ہوگا۔
  • دونوں تین سال کے کورس ہیں۔ پروگرام کا مقصد طلباء کو اعلٰی تعلیم کے لیے تیار کرنا ہے۔ پروگرام وہ عام تعلیم بھی مہیا کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاگردوں کو باہر کی دنیا، ان کے ہم افراد، ماحول، معاشرے اور اپنی نشوو نما کے بارے میں فہم حاصل کرنا ضروری ہے۔ قبول کیے جانے کے لیے، یہ ضروری ہے کہ میونسپل پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کا نویں جماعت کا حتمی امتحان پاس کیا ہو۔ پ کو کہا جا سکتا ہے کہ داخلے کے امتحان میں بیٹھیں، یا اپر اسیکنڈری اسکول آپ کے تعلیمی معیار کی بنیاد پر آپ کو تسلیم کر سکتا ہے۔

پیشہ ورانہ تعلیمات

انتخاب کرنے کے لیے ۱۲۵ مختلف کورس

پڑھنے کے لیے ۱۲۵ مختلف کورس ہیں، مثال کے طور پر، ترکھان، لاہار، مستری، سیل اسسٹنٹ، الیکٹریشن، باورچی اور ڈیٹا ٹیکنیشن۔ کورسز پیشہ ورانہ سکولوں میں مفت مہیا کیے جاتے ہیں۔ داخلے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی تعلیم پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کے نو سال کے مساوی ہو۔ پورے کورس میں، طالب علم اور اساتذہ دونوں کے لیے لازم ہے کہ مقررہ شدہ مقاصد کو حاصل کریں۔

ڈینش امتحان

اگر آپ ڈینش اسکول نہیں گے یا آپ کے پاس ڈینش شہریت ہے، کالج آپ کو داخلہ دینے کے لیے ایک خصوصی ڈینش امتحان پاس کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

ڈیڑھ سال سے ساڑھے پانچ سال تک

پیشہ ورانہ تربیت مکمل کرنے کا وقت ڈیڑھ سے ساڑدے پانچ سال تک ہوتا ہے، یہ منحصر ہے کہ آپ کس خاص پیشہ میں پڑھائی کر رہے ہیں۔ تعلیم کا اختتام ٹیسٹ یا اختتامی پیشہ ور امتحان کرنے پر ہوتا ہے۔

اسکول اور عملی تربیت

کچھ کورسز کالج کے لیے محدود ہوتے ہیں۔ لیکن زیادہ ترکالج اور عملی تجارتی تعلیم آپس میں ایک دوسرے سے تبدیل ہو جاتےہیں۔

ماہر استاد کے زیر تعلیم کا نیا نظام

اگر آپ ترجیح دیتے ہیں کہ آپ کی عملی تعلیم کا آغاز فوراً ہو جائے، زیادہ تر پیشہ ورانہ تعلیمی کورسز کسی کمپنی کے ساتھ کارآموزی معاہدے پیش کرتے ہیں جہاں طلباء اپنی زیادہ تر تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ اسے کرافٹ کارآموزی کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ کوئی کمپنی ڈھونڈیں جو آپ کے ساتھ کارآموزی معاہدہ کرنا چاہے۔ ضروری ہے کہ آپ ایک تعلیمی منصوبہ تشکیل دیں۔ کالج اور کمپنی اس بارے میں آپ کی مدد کرتے ہیں۔

ایس یو اور تنخواہ

پیشہ ورانہ تعلیم کالج میں مفت ہے۔ آپ ایس یو کے تحت تعلیم کے اس حصے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جو کالج میں ہو گا۔ جب آپ پیشہ ورانہ تعلیم میں ہوتے ہیں، آپ کو کارآموزی تنخواہ ملے ہے۔ رقم انتخاب کردہ مضمون اور آپ کی عمر پر منحصر ہو گی۔

سماج اور صحت کی حفاظت کا مدد گار

سماج اور صحت کی حفاظت کا مدد گار سن رسیدہ، بیمار اور معذور افراد جنہیں خصوصی ذاتی دیکھ بھال اور عملی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، کی دیکھ بھال کرتا ہے یہ کام ذاتی گھر، نرسنگ ہومز اور مشترکہ ہاؤسنگ اسکیم میں کیا جاتا ہے۔

کورس کی مدت ایک سال دو ماہ کی ہوتی ہے۔ سینڈوچ کورس تقریباً چھ ماہ تک پیشہ ورانہ کالج اور آٹھ ماہ کی عملی تربیت میں تقسیم ہوتا۔ داخلے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی میونسپل اتھارٹی میں سماج اور صحت کی حفاظت کے کالج میں درخواست دیں۔ اگر آپ کو داخلہ مل جاتا ہے تو آپ کو کارآموزی کے لیے ہسپتال یا میونسپل اتھارٹی میں بھیجا جائے گا۔ آپ یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ آغاز کالج یا عملی تربیت سے کریں۔

کورس مفت ہے اور تربیت کے دوران آپ کو کارآموزی تنخواہ ملتی رہے گی۔

سماج اور صحت کا اسسٹنٹ

جب آپ سماج اور صحت کی حفاظت کے مددگار کے لیے گریجویٹ ہو جاتے ہیں، آپ سماج اور صحت راہنما کے لیے تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔ سماج اور صحت کی حفاظت کا راہنما جسمانی اور دماغی معذور لوگوں کے لیے ہسپتالوں، نرسنگ ہومز اور اداروں میں کام کرتا ہے۔ کورس ایک سال آٹھ ماہ کی مدت میں مکمل ہوتا ہے۔ تربیتی کورس کے دوران آپ کو کارآموزی تنخواہ ملے گی۔

پروڈکشن سکول

اگر آپ ۲۵ سال سے کم عمر ہیں اور نوجوانوں کی تعلیم مکمل نہیں کیا اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کے لیے وقت درکار ہے، تو آپ پروڈکشن سکول میں داخلہ مل سکتا ہے۔ پورے ملک میں ۱۰۰ کے قریب پیدا آواری کالج ہیں۔ تمام اپنی فطرت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن کئی ورکشاپ کی سرگرمیاں اور عام مضامین کی تعلیم پر مشتمل ہوتے ہیں۔ طالباء پروڈکشن سکول میں کام کرتے ہیں اور مقررہ کام اس مقصد سے مکمل کرتے ہیں کہ جو وہ بناتے ہیں اسے بیچ سکیں۔ آپ کو درخواست دینا ہو گی تا آپ کا داخلہ منظور کیا جائے اور آپ کی میونسپل اتھارٹی کی سروس برائے نوجوان تعلیمی راہنمائی* آپ کو وہاں رہنے کی اجازت دے۔

بنیادی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت اسکیم (ای جی یو)

میونسپل اتھارٹیز کے لیے ضروری ہے کہ اتھارٹی میں ۳۰ سال سے کم عمر افراد جنہیں ملازمت ڈھونڈنے یا تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوا ہو انہیں خصوصی بنیادی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت اسکیم (ای جی یو) کے تحت، تعلیم و تربیت مہیا کرے۔

ای جی یو ایک عملی اسکیم ہے جس کا مقصد اس میں شامل ہونے والوں کو ملازمت ڈھونڈنے اور مزید تعلیم حاصل کرنے میں مدد دینا ہے۔ کورس عام طور پر دو سال کا ہوتا ہے اور اس میں کالج کی تعلیم اور پریکٹیکل تعلیم شامل ہے۔ اس کی تشکیل کے لیے انفرادی ضروریات، پسند اور مقامی علاقے میں ملازمت اور پریکٹیکل تعلیم کے مواقع کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

میونسپل اتھارٹیز کے ساتھ معاہدے کے تحت، پروڈکشن اور پیشہ ورانہ سکول ای جی یو کورس مہیا کر سکتے ہیں۔

دستکاری جگہ پر شاگرد

کسی تعلیمی مشیر سے رجوع کریں

انفرادی کالجز اور تعلیمی اداروں میں تعلیمی مشیر آپ کی راہنمائی کے لیے مشورہ دیتے ہیں کہ کونسا کورس آپ کی ضروریات کے لیے بہتر رہے گا۔ آپ یہ مشورہ اپنی میونسپل اتھارٹی کی سروس برائے نوجوانوں کی راہنمائی سے بھی لے سکتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے دیکھیں www.borger.dk اور www.uddannelsesguiden.dk



Mohsin N. Rashad

میں عزت اور اچھی تنخواہ کماتا ہوں

موحسن راشد ایک ترک ہے جو پہلے عراق میں رہتا تھا۔ سن ۲۰۰۱ میں وہ ڈنمارک آ گیا۔ اب وہ پلمبر بننے کے لیے تربیت حاصل کر رہا ہے۔

'میرا باپ ایک انجینیر ہے اس وجہ سے پہلے میں نے سوچا کہ اس کے نقش قدم پر چلوں۔ لیکن پھر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں ایک کاریگر بننے کی تربیت حاصل کروں۔ مجھے اپنا کام اور مختلف عمارات کی جگہوں پر کام کرنا پسند ہے۔ میں تربیتی پروگرام سے بہت خوش ہوں اور مجھے اپنے چناؤ پر کوئی دکھ نہیں؛ میرے اور دوسرے طلباء کے درمیان کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔ یہ اہم نہیں کہ آپ انجینیر کی تربیت لیں یا کاریگر کی۔ تنخواہ ایک جیسی ہے اور عزت بھی اتنی ہی ہے۔"



شاگردی یا کام کی تربیت کا سیشن

کچھ کاروبار میں، ۱۵ سے ۱۸ سال کی عمر کے نوجوان کسی کمپنی میں ۳ سے ۶ ماہ کے عرصے کے لیے شاگردی کے معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں انہیں شاگردی کی تنخواہ ملتی ہے۔ تربیتی اسکیم کے مقاصد دونوں طرف سے ہوتے ہیں اور وہ ایک تربیتی معاہدہ میں داخل ہوتے ہیں۔ مزید جاننے کے لیے سروس برائے نوجوانوں کی تعلیمی راہنمائی سے پوچھیے۔

تعلیم اور کام کے لیے مشورہ

آج کل تعلیم و تربیت کے وہ مواقع ہیں جو پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔ کچھ تربیتی پروگرام نظریاتی ہوتے ہیں، جب کہ کچھ دوسرے تجارت پر زور دیتے ہیں۔ یہ اہم ہے کہ وہ تعلیم و تربیت ڈھونڈیں جو ضروریات اور دلچسپی کے مطابق ہو۔ اسکول میں، بچوں کو پیشے کے متعلق مشاورت کی پیشکش کی جاتی ہے جس کا مقصد ان کو ڈینش تعلیمی نظام سے واقف کرانا اور ملازمت کے مواقع بتانا ہوتا ہے۔

مشیر

مشیر وہ شخص ہوتا ہے جو نوجوانوں اور والدین سے بات چیت کرتا ہے اور انہیں پیشے اور تعلیم کے انتخابات سے آگاہ کرتا ہے۔ مشیر مختلف تعلیمی پروگرامز کے بارے میں معلومات میں مدد اور تعلیمی شرائط کی وضاحت کرتا ہے۔ اس طرح، طلباء جس پروگرام کے اہل ہوں اور مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ان کا انتخاب کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔

مختلف قسم کے مشیر ہوتے ہیں۔ پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول میں مشیر کوUU سے جانا جاتا ہے (نوجوانوں کا تعلیمی مشیر)، جب کہ دوسرے اداروں میں اسے کئیریر ایڈوائزر کا حوالہ دیا جاتا ہے یا ایجوکیشنل اور ووکیشنل گائڈنس کونسلر۔

نوجوانوں کا تعلیمی مشیر (UU)

نوجوانوں کی تعلیمی راہنمائی سروس تمام ان نوجوانوں کو جو ۲۵ سال سے کم عمر کے ہوں تعلیم اور ملازمت کے بارے میں مدد اور مشورہ مہیا کرتی ہے ۔ UU اسکولوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے تا نوجوانوں کو تعلیم و تربیت کا انتخاب کرنے میں مدد فراہم کر سکیں۔ UU سے رابطہ آپ کے مقامی UU سینٹر میں ہو سکتا ہے۔

اسکول میں راہنمائی

اسکول میں، جماعت کا استاد اور UU کے مشیر کا کام ہے کہ وہ شاگردوں اور والدین کو مشورہ دیں۔ UU کا مشیر ذاتی راہنمائی کی پیشکش کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، مشیر تعلیم اور ملازمت کے بارے میں نوجوانوں سے بات چیت کرتا ہے۔ مشیر ۶ سے ۱۰ جماعت تک شاگردوں کے تعلیمی کتابچے کی تیاری میں بھی مدد کرتا ہے۔ نویں اور دسویں جماعت میں، شاگرد اپنے تعلیمی کتابچے کو ختم کرتے ہیں جس میں اپنا انتخاب کردہ تعلیمی منصوبہ بیان کرتے ہیں۔ یہ اہم ہے کہ والدین اپنے بچوں کی اسکول کی تعلیم و تربیت کے دوران ان کی سوچ میں دلچسپی لیں۔ والدین تعلیمی کتابچے اور منصوبے کو پڑھ سکتے ہیں اور اپنے بچے سے اس بارے میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

مشیر ایک اچھا کام سرانجام دیتا ہے لیکن والدین اور شاگرد بھی اپنے طور پر ممکن راستوں پر غور کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ انٹرنیٹ پر ڈھونڈ سکتے ہیں یا مختلف تعلیمی اداروں یا پبلک لائبریری میں جا کر۔

اسکول کے بعد راہنمائی

نوجوان مزید تعلیم کے لیے اپنے تعلیمی ادارے سے راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ مشیر مضامین کے انتخاب، کورس کے منصوبے اور SU (ریاست کی طرف سے گرانٹ اسکیم) میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

۲۵ سال سے کم عمر نوجوان جنہوں نے نویں یا دسویں جماعت میں اسکول چھوڑ دیا تھا انہیں اپنے مقامی UU سینٹر سے راہنمائی حاصل ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، یہ ان نوجوان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے تعلیم شروع نہیں کی یا جنہوں نے کی تھی لیکن مکمل نہ کر سکے۔ آپ کے مقامی UU سینٹر کے فون نمبر آپ کے اسکول، بلدیہ یا www.uddannelsesguiden.dk سے مل سکتے ہیں۔

مزید تعلیم کے لیے مشاورت

پورے ملک میں سات تعلیمی اور راہنمائی سینٹر ہیں جو اعلٰی تعلیم کی مشاورت کرتے ہیں۔ آپ نزدیک ترین تعلیمی اور راہنمائی سینٹر کے فون نمبر اور پتہ جاننے کے لیے دیکھ سکتے ہیں www.ug.dk

زیادہ تر تعلیمی اداروں میں کریکلم مشیر ہوتا ہے جو تعلیمی پروگرام کے مواد، داخلے کی شرائط، درخواست اور مستقبل کے مواقع کے بارے میں مشورہ دیتا ہے۔

تعلیم بالغاں اور ملازمت کی مشاورت

بالغ جو تعلیم اور ملازمت کے لیے مشورے کی تلاش میں ہیں ان کے لیے کئی زرائع ہیں۔

کوئی بھی ملازمت کی تلاش میں میونسپل اتھارٹی کے روزگار سینٹر میں درخواست دے سکتا ہے۔

مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لینگویج سینٹرز اور VUC (تعلیم بالغاں سینٹرز) کورس اور تعلیمی پروگرام کی مشاورت مہیا کرتے ہیں۔ پیشہ ورانہ تربیتی کورس اور تعلیمی پروگرام کی مشاورت کے لیے پیشہ ورانہ اور سماجی اور صحت کی حفاظت کے کالجز سے حاصل کر سکتے ہیں۔ کچھ ہائی اسکول اور ثقافتی ہائی اسکول اپنے سلیبس کے مطابق مشاورت مہیا کرتے ہیں۔

اعلٰی تعلیم کی مشاورت ملک میں ساتھ تعلیمی اور راہنمائی سینٹر یا تعلیمی ادارے، جہاں آپ داخلہ لینے کا سوچ رہے ہیں، کرتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے دیکھیں www.borger.dk، www.uddannelsesguiden.dk اور www.vidar.dk

اعلی تعلیم

کم، درمیانے، اور لمبے عرصے کی اعلٰی تعلیم

اگر آپ نے اپر اسیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل کر لی ہے، آپ اعلٰی تعلیم کا کوئی پروگرام شروع کر سکتے ہیں۔ تین قسم کی اعلٰی تعلیم کت پروگرامز ہیں:

  • کم عرصے کا اعلٰی تعلیم پروگرام عام طور پر دو سال کا ہوتا ہے۔ یہاں آپ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں لیباٹری ٹیکنشن، مارکیٹ ایکنامسٹ، سرٹیفائڈ الیکٹریشن یا مکینکل انجینیر بننے کے لیے۔ پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت اور عام اپر اسیکنڈری تعلیم دونوں اعلٰی تعلیمی کے کم عرصے کے پروگرام کی رسائی دیتے ہیں۔
  • درمیانے عرصے کا پیشہ ورانہ بیچلرز پروگرام تین سے چار سال کے عرصے میں مکمل ہوتا ہے۔ یہاں آپ استاد، سوشل ایجوکیٹر، نرس، انجینیر یا سوشل ورکر بننے کے لیے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
  • لمبے عرصے کے اعلٰی تعلیمی پروگرام جو یونیورسٹی یا اعلٰی تعلیمی اداروں میں پڑھے جاتے ہیں۔ یہاں آپ ڈاکٹر، دندان ساز، انجینیر اور اپر اسیکنڈری اسکول کا استاد بن سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کے تعلیمی پروگرام پانچ سے چھ سال کے عرصے میں مکمل ہوتے ہیں اور اس میں مزید PhD پروگرام بھی شامل کر سکتے ہیں جہاں طلباء کو تنخواہ اور تحقیق کا کام اور تین سال تک پڑھانا ہوتا ہے۔

اپنی تعلیم کے امکانات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے www.uddannelsesguiden.dk پر دیکھیں۔

داخلے کی شرائط

ہر پروگرام کی مختلف داخلہ شرائط ہیں جو اکثر کسی خصوصی امتحان یا بعض اوقات قابلیت پر منحصر ہوتا ہے۔ کچھ تعلیمی پروگرامز کی محدود داخلے کی پالیسی ہوتی ہے کیونکہ شرائط پر پورا اترنے والے درخواست دندگان کی تعداد میثر سیٹوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ زیادہ تر پروگرام میں کوٹا نظام چلتا ہے اور دو کوٹ ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ درخواست دندگان کو دو حصوں میں لیتے ہیں۔ پہلے کوٹا میں، درخواست دندگان اپنی قابلیت اور امتحان میں گریڈ کے تحت قبول کیے جاتے ہیں۔ دوسرے کوٹا میں، طلباء کو کسی اور خاص چناؤ کے طریقے سے قبول کیا جاتا ہے جو پروگرام پر منحصر ہوتا ہے۔

اندراج کا منظم نظام (KOT)

قریباً تمام اعلٰی تعلیمی پروگرام یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ طلباء اندراج کے منظم نظام (KOT) کے تحت اندراج کروائیں۔ آپ درخواست کے فارم www.optagelse.dk سے حاصل کر سکتے ہیں۔

داخلہ امتحان

کچھ تعلیمی پروگرام کا مطالبہ ہوتا ہے کہ امتحان برائے داخلہ دیا جائے۔ یہ خاص طور پر تخلیقی یا کاریگری کے پروگرامز جیسے اداکاری، فلم ڈائریکٹری، صحافت اور ڈیزان پے لاگو ہوتے ہیں۔

بیرونِ ملک سند یافتہ

بیرونِ ملک سے سند یافتہ درخواست دہندگان کے لیے خصوصی قواعد لاگو ہوں گے۔ آپ ان قواعد کے بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں امتحانی کتابچے پر غور کرنے سے www.ciriusonline.dk

اپنے پروگرام سے شناسا ہوں اور دوسرے طلباء سے ملیں

زیادہ تر یونیورسٹیوں اور اعلٰی تعلیمی اداروں کے پروگرام نئے طلباء کے لیے ایک سمت بندی کورس سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں نئے طلباء کا ایک دوسرے سے تعارف اور پروگرام کے بارے میں تعلیمی اظہار، بحث اور پرمسرت سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اکثر نئے طلباء اکٹھے ہو کر چھوٹے موٹے دورے بھی کرتے ہیں۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی پر خوش آمدید

کوپن ہیگن یونیورسٹی میں، پرنسپل نئے طلباء کو خوش آمدید کہتا ہے۔



بالغان کے لیے خصوصی کورس

ہر سطح پر

بالغ طالب علم ہونے کے ناطے، تعلیم اور ٹیوشن کے بہت سے مواقع ہیں۔ آپ عام تعلیم، کل وقتی تعلیمی پروگرام یا جاری تربیت کورس کر سکتے ہیں۔ ڈینش تعلیمی نظام میں قریباً ہر سطح کی بالغ تربیت پیش کی جاتی ہے۔ بالغ تربیتی سینٹر (VUC) میں، بالغ افراد تعلیم بالغاں (FVU) کی تیاری، ڈسلیکسک بالغ افراد کے لیے کورس، عام بالغ تعلیم (AVU) اور اعلیٰ تیاری انفرادی مضمون کے کورس میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اپنے گھر یا علاقے کے قریبی تعلیم بالغاں سینٹر کا پتہ جاننے کے لیے دیکھیں www.vuc.dk یا www.vidar.dk اپنی پڑھائی کے دوران تعلیم اور مالی امداد ملنے کے امکانات کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں۔

تعلیمِ بالغاں (FVU) کی تیاری

FVU ان بالغ افراد کے لیے ہے جو اپنی پڑھائی، لکھائی، حروفِ تہجی اور حساب کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ٹیوشن تین حصوں میں تقسیم کی گئی ہے، اور آپ اس حصے سے آغاز کریں گے جو آپ کی ضروریات اور قابلیت کے مطابق ہو۔ ہر حصے کے بعد آپ ایک حتمی امتحان لے سکتے ہیں۔ FVU مفت ہے۔ مزید دیکھنے کے لیے، www.vidar.dk پر جائیں۔ یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ ٹیوشن کہاں فراہم کی جاتی ہے۔ تعلیم بالغاں سینٹر (VUC)، نائٹ اسکول اور پرائیویٹ اساتذہ پورے ملک میں ہر جگہ دستیاب ہیں۔

ڈسلیکسک بالغان کے لیے کورس

ڈسلیکسک بالغان کورس ان بالغ افراد کے لیے ہے جنہیں ڈسلیکسیا کی وجہ سے پڑھنے اور لکھنے میں دشواری ہو۔ ٹیوشن مفت ہے۔ ٹیوشن فراہم کرنے والے اداروں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے www.vidar.dk پر جائیں۔ تعلیم بالغاں سینٹر (VUC)، نائٹ اسکول اور پرائیویٹ اساتذہ پورے ملک میں ہر جگہ دستیاب ہیں۔

بالغ افراد کے لیے خصوصی تعلیم

جسمانی اور دماغی معذوری والے بالغ افراد کو انسدادی تعلیم انفرادی طور پر مہیا کی جاتی ہے جیسا کہ انہیں ہدایت اور نصیحت دی جاتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ حصہ لینے والے ایک مصروف اور آزاد بالغ زندگی گزار سکیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایک جانچ کی جائے تاکہ یہ پتہ چلے کہ آپ کے لیے کون سی انسدادی تعلیم بہتر رہے گی تو آپ اپنی میونسپل اتھارٹی میں درخواست دے سکتے ہیں۔

کمپیوٹر پر پڑھائ


عام تعلیم بالغاں (AVU)

عام تعلیم بالغاں عام مضامین کی ٹیوشن پر مشتمل ہوتی ہے جیسے ڈینش، ڈینش دوسری زبان کے طور پر، ریاضی، کمپیوٹر کے مضامین، انگریزی اور معاشرتی سائنس۔ ان مضامین کا رخ کسی خاص پیشے کی طرف نہیں نہیں لیکن مزید تعلیم یا بہتر ملازمت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہو سکتے ہیں۔ کورس ایک اختتامی امتحان پر ختم ہو سکتا ہے جو پرائمری اور لوئر اسیکنڈری اسکول کی نویں اور دسویں جماعت کے اختتامی متحان کے مساوی ہے۔

آپ کلاسں دن کے وقت لے سکتے ہیں، شام میں لے سکتے ہیں، ڈسٹنس لرننگ یا پرائیویٹ طالب علم کے طور پر جہاں آپ اپنے طور پر پڑھتے ہیں اور اختتامی متحان میں بیٹھ سکتے ہیں۔

آپ کو ان کلاسز میں حصہ لینے کے لیے ایک چھوٹی سی فیس ادا کرنا ہو گی۔

HF - اعلٰی تیاری انفرادی مضمون کورس

HF، اعلٰی تیاری کا امتحان، ایک اپر اسیکنڈری تعلیم ہے۔ VUC میں، ٹیوشن ایک انفرادی مضمون کورس کی منصوبہ بندی ہے اس وجہ سے آپ ضرورت کے مضامین رکھ سکتے ہیں۔

آپ کلاسں دن کے وقت لے سکتے ہیں، شام میں لے سکتے ہیں، ڈسٹنس لرننگ یا پرائیویٹ طالب علم کے طور پر جہاں آپ اپنے طور پر پڑھتے ہیں اور اختتامی امتحان میں بیٹھ سکتے ہیں۔

آپ کو ان کلاسز میں حصہ لینے کے لیے ایک چھوٹی سی فیس ادا کرنا ہو گی۔

بالغ افراد سکول بنچ پر


اعلی تعلیم بالغاں (VVU)

تعلیم یافتہ اور تجربہ کار بالغان کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ مزید تعلیم حاصل کریں۔ بہت سے تعلیمی ادارے بالغان کے لیے کورس اور پروگرام پیش کرتے ہیں یہ خواہش رکھتے ہوئے کہ ان کی صلاحیت بڑھ جائے، مثال کے طور پر جب کوئی مکمل ملازمت کر رہا ہو۔ پروگرام اور آپ کے تجربے پر منحصر ہے کہ آپ کم، درمیانے یا لمبے عرصے کی اعلیٰ تعلیم کی کلاسز لیں۔

مزید معلومات کے لیے دیکھیں www.uddannelsesguiden.dk اور www.vidar.dk

بازار روزگار کی تعلیمات (AMU)

کم عرصے کے تربیتی پروگرام:

بازار روزگار کی تعلیمات کم عرصے کے کورس ہوتے ہیں جو پرائیویٹ اور پبلک کمپنیوں کے باصلاحیت اور بے صلاحیت ملازمین کے لیے ہوتے ہیں۔ بالغ پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام جاب سینٹر کی طرف سے بے روزگار افراد کے لیے ملازمت کے آغاز* کی پیشکش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے ۔

۲۵۰۰ مختلف کورس

اندازاً ۲۵۰۰ مختلف بازار روزگار کی تعلیمات موجود ہیں جو مثال کے طور پر، تجارت اور آفس، سوشل اور صحت کی دیکھ بھال، تعمیر، کھیتی باڑی، دھات، سروسز اور ٹرانسپورٹ کے صنعتی شعبہ جات شامل ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.vidar.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔

یہاں آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کورس کہاں ہو رہے ہیں۔ یہ کورس بالغان کے پیشہ ورانہ تربیتی سینٹر، ٹیکنیکل کالج، بسنس اسکول، سماج اور صحت کی دیکھ بھال کے کالجز، نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے سوشل ایجوکیٹرز اور پرائیویٹ اداروں میں دیے جاتے ہیں۔

مالیات

ٹیوشن فیس ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اسے واپس لے سکیں۔ آپ کا بے روزگاری فنڈ یا جاب سینٹر آپ کو اس بارے میں مزید بتا سکتے ہیں۔

دوہری زبان کے شہریوں کے لیے

اگر آپ کی ڈینش زبان میں اتنی مہارت نہیں رکھتے کہ کوئی کورس کر سکیں، یہ ممکن ہے کہ خصوصی کورس کر سکیں۔ اس طرح، ایک یا ایک سے زیادہ بالغ پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام کے ساتھ ڈینش ٹیوشن بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بالغ پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام ڈینش میں لیا جا سکے جس کے ساتھ کوئی دوسرا تعلیمی پروگرام شامل نہیں کیا جاتا۔

غیر ملکی تعلیمات کی منظوری

کیا آپ اپنی تعلیم ڈنمارک میں استعمال کر سکتے ہیں؟

اگر آپ نے اپنی تعلیم ڈنمارک سے باہر مکمل کی ہے، آپ کو یہ معلوم کرنا ہو گا کہ آپ کو ڈنمارک میں کام کرنے کے لیے اسے جیسے ہے ویسے استعمال کیا جا سکتا ہے یا آپ کو یہ ضرورت ہے کہ پہلے دوبارہ سے اس کے اہل ہوں۔

غیر ملکی اہلیت کے تعین کے لیے مدد

CIRIUS ڈنمارک کا وہ خصوصی ادارہ ہے جہاں آپ درخواست دے سکتے ہیں اگر آپ اپنی غیر ملکی اہلیت کا تعین ڈینش تعلیمی نظام اور روزگار مارکیٹ کے مطابق کروانا چاہتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.ciriusonline.dk/anerkendelse کا حوالہ دیتے ہیں۔

بیرون ملک طلباء






آخری تازہ ترین: 20/03/2009
نے شائع کیا: وزارت پناہ گزین، مہاجرین اور انٹرگريشن امور
پپورٹل کے حصے دار شریک پناہ گزین، تارک وطن اور انضمام وسائل کے معاملات کی وزارت – دی ڈینش امیگریشن سروس