6 خاندان
خاندان اور معاشرہ
ڈینش معاشرہ اور فلاحی ریاست کی بنیاد فرد واحد کی عزت اور عوام کی ذمہ داری پر مبنی ہے، جن کا تعلق خاندان اور معاشرہ دونوں سے ہے۔
عورت اور مرد کے مساوی حقوق
عورت اور مرد کے ایک جیسے حقوق اور ذمہ داریاں ہیں، اور لیبر مارکیٹ میں، معاشی اور سیاسی سر گرمیوں میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی حال خاندانی زندگی کا ہے، جہاں مرد اور عورت اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا مساوی حق ہے، مثال کے طور پر جس میں طلاق بھی شامل ہے۔ زیادہ تر خاندانوں میں، میاں اور بیوی دونوں ملازمت کرتے ہیں اور گھر چلانے کی زمہ داری کو بانٹتے ہیں۔
شہری اور معاشرے کے لیے اکٹھی ذمہ داری
شہری اور پبلک سیکٹر مختلف کاموں کے لیے ذمہ داریاں بانٹتے ہیں، مثلاً، بچے اور جوان اچھی تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں اور یہ کہ بیمار اور کمزور کو دیکھ بھال اور علاج ملتا ہے۔
ٹیکس ادا کرنے سے، تمام شہری پبلک سیکٹر میں حصہ ڈالتے ہیں، جو کئی اہم کام کرنے کا ذمہ دار ہے۔ مثال کے طور پر پبلک سیکٹر بچوں کے لیے ڈے کئیر سینٹر، اسکول اور ہسپتال مہیا کرتا ہے، اسی طرح بیمار، بوڑھوں اور دوسرے لوگ جو خود اپنی دیکھ بھال نہیں کر سکتے کے لیے مدد فراہم کرتا ہے۔
رضا کار
کئی رضا کار اور نجی تنظیمیں ضرورت مندوں کی امداد کرتی ہیں۔ عموماً خاندانوں اور پبلک سیکٹر سے مل کر۔ مزید معلومات کے لیے www.frivillige.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔
خاندانی زندگی اور جوڑے
ڈنمارک میں زیادہ تر خاندان باپ، ماں اور بچوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بہت سے نوجوان بہت سالوں تک اکیلے رہتے ہیں جب تک ان کی شادی نہ ہو یا کسی کے ساتھ اکٹھے رہیں اوربچے ہوں۔ بہت سے لوگ اکیلے اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہت سے بالغ اور بوڑھے اکیلے رہتے ہیں۔
۲۰۰۶ میں ڈنمارک میں ۲۵ لاکھ گھروں میں 2.1 کی اوسط سے لوگ ہر گھر میں آباد تھے۔| عام الفاظ میں وہ مندرجہ ذیل قسم کے خاندان تھے: | شرح فی صد |
| شادی شدہ جوڑے بچوں کے ساتھ | 13 |
| شادی شدہ جوڑے بچوں کے بغیر | 21 |
| جوڑے بچوں کے ساتھ | 4 |
| جوڑے بچوں کے بغیر | 6 |
| اکیلا باپ یا ماں بچوں کے ساتھ | 5 |
| اکیلا باپ یا ماں بچوں کے بغیر | 49 |
| رجسٹرڈ شراکت داری | 1 |
شماریات ڈنمارک، ۲۰۰۷شادی
کسی جوڑے کو اجازت ہے کہ شادی کر سکے جب دونوں 18 سال کے ہو چکے ہوں۔ وہ لوگ جو 18 سال سے کم عمر ہوں انہیں اپنی میونسپل اتھارٹی سے خصوصی اجازت لینا ہو گی۔ کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ نہیں ہونا چاہیے، اور بہن بھائ، قریبی رشتہ داروں اور اولاد، والدین یا ان کے والدین۔سے شادی کرناقانوناً جرم ہے۔ ایک ذاتی فیصلہ ہے کہ کوئی شخص کس سے شادی کرے گا۔ شادی ذاتی خواہش کی بنا پر ہو گی اور کسی سے زبردستی کرنا قانوناً جرم ہے۔ اگر آپ کی شادی کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جو کسی دوسرے ملک میں رہتا ہے اور آپ اسے ڈنمارک بلانا چاہتے ہیں، آپ اور آپ کے خاوند یا بیوی کو اقامتی اجازت نامہ یا خاندان از سر نو ملاپ کے لیے درخواست دینا ہو گی۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیں باب 3، ڈنمارک میں داخلہ اور اقامت۔
رجسٹری یا گرجا گھر
کوئی بھی جوڑا رجسٹری کے ذریعہ یا گرجے میں شادی کر سکتا ہے۔ سول شادی کی تقریب میونسپل اتھارٹی کا رجسٹرار یا کوئی عوامی نمائندہ کرتا ہے۔ گرجے میں شادی کی تقریب پادری کرتے ہیں جن کا تعلق ڈینش نیشنل چرچ* سے ہوتا ہے یا کسی دوسری مذہبی جماعت میں جہاں کے نمائندے کے پاس یہ حق ہوتا ہے کہ وہ شادی کروا سکے۔
اگر آپ کی شادی کسی دوسرے ملک میں ہوئی ہے تو یہ امکان ہے کہ آپ کی شادی ڈنمارک میں بھی تسلیم شدہ ہو۔ آپنی میونسپل اتھارٹی سے ڈینش نیشنل رجسٹر کے بارے میں پوچھیے۔
ایک دوسرے کے اخراجات اٹھانے کا ذمہ
جب آپ کی شادی ہوتی ہے، آپ کا فرض ہے کہ مالی لحاظ سے ایک دوسرے کے اخراجات اٹھائں۔ عام قاعدے کے تحت تمام اشیاء کی ملکیت مشترکہ ہو گی۔ جب شادی شدہ جوڑے کے بچے ہوتے ہیں تو والدین خودبخود بچے کی حق حضانت کے حق دار بن جاتے ہیں۔
رجسٹرڈ جوڑے
ہم جنس لوگ بھی ایک رجسٹرڈ شراکت داری میں داخل ہو سکتے ہیں جو قانونی لحاظ سے بالکل شادی کی طرح ہے۔ ہم جنس افراد کے وہی حقوق اور فرائض ہیں جو تمام دوسرے شہریوں کے ہیں۔ لیکن کچھ مسائل مستثنٰی ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم جنس جوڑوں کو بچے گود لینے کا حق نہیں ہے۔
شادی کیے بغیر ساتھ رہنا
جب دو افراد شادی کیے بغیر اکٹھے رہنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو اسے شادی کے بغیر ساتھ رہنا کہتے ہیں۔ جو جوڑے شادی کیے بغیر ساتھ رہتے ہیں ان کے فرائض اور ذمہ داریاں شادی شدہ جوڑوں کی طرح نہیں ہوتیں۔ یہ خاص طور پر اہم ہے اگر جوڑا بچوں والا ہے اور ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اگر کسی جوڑے کے بچے ہیں اور وہ شادی شدہ نہیں ہیں، ماں کو خودبخود بچے کی تحویل مل جاتی ہے۔ لیکن اگر والدین رضامند ہوں تو دونوں کو مشترکہ تحویل* مل سکتی ہے۔
اختلاف رائے کا اختتام عدالت میں ہو سکتا ہے۔
اگر کوئی غیر شادی شدہ جوڑا علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر لے تو یہ ان کا آپس کا معاملہ ہو گا کہ وہ چیزوں کو کیسے بانٹتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے انہوں نےاس بات پر اتفاق کیا کہ بچے کہاں رہیں گے۔ اگر وہ متفق نہ ہو سکیں تو یہ معاملہ قانونی عدالت میں حل ہو گا۔ اگر وہ اس بات پر متفق نہ ہو سکیں کہ بچے کہاں رہیں گے، تو وہ ریاستی انتظامیہ* سے مدد مانگ سکتے ہیں۔
علیحدگی اور طلاق
میاں یا بیوی میں سے اگر کوئی ایک اس رشتہ میں مزید بندھا نہیں رہنا چاہتا تو اسے حق ہے کہ وہ علیحدگی حاصل کر سکے ۔علیحدگی ایک آزمائشی مدت ہے، جہاں شادی شدہ ہونے کے باوجود علیحدہ رہا جاتا ہے ۔اگر وہ ایک سال سے علیحدہ رہ رہے ہیں تو شادی شدہ جوڑا طلاق لے سکتا ہے ہیں۔ جس میں جوڑااگر وہ متفق ہوں،چھ ماہ بعد طلاق لے سکتے ہیں
اگر طلاق کی بنیاد بے وفائی یا جسمانی تشدد ہے، تو علیحدگی کی مدت کے بغیر فوراً طلاق لینا ممکن ہے۔
بچوں کی ذمہ داری بانٹنا۔
والدیں خود یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ بچوں کی ذمہ داری کیسے بانٹنی ہے۔ اگروہ متفق نہ ہو سکیں، تو وہ ریاستی انتظامیہ سے مدد لے سکتے ہیں۔ اگرمعاہدہ نہ ہو تو معاملہ قانونی عدالت میں حل ہو گا۔
وہ جوڑا جو علیحدگی یا طلاق چاہتا ہے تو اسے اس علاقے* میں جہاں وہ رہتے ہیں، کی ریاستی انتظامیہ کو درخواست دینا ہو گی۔ یہاں انہیں علیحدگی، طلاق، تحویل، جائیداد کا بٹوارہ اور دیکھ بھال کے اخراجات کے بارے میں مشورہ دیا جائے گا۔
بچے کی مدد کے لیے اخراجات۔
ماں یا باپ جو بچے کے ساتھ نہ رہتے ہوں انہیں بچے کے اخراجات میں مدد کی رقم دوسرے کو دینا ہو گی۔ بچے کی مدد کے اخراجات ٹیکس میں سے استخراج ہو جاتے ہیں۔
مانع اور اسقاطِ حمل
آپ ہمیشہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر سکتی ہیں کہ حاملہ ہونے سے کیسے بچ سکتی ہیں۔ مانع حمل کے بہت سے طریقے ہیں جن میں سے کوئی بھی چن سکتے ہیں۔
ڈنمارک میں، ایک عورت کا حق ہے کہ وہ حمل کے بارہ ہفتے پورے ہونے سے پہلے ہسپتال میں اسقاطِ حمل کروا سکے ۔ مخصوص صورتوں میں اس تاریخ کے بعد بھی اسقاطِ حمل کروانا ممکن ہے۔
اسقاطِ حمل کے حق کی بنیاد عورت کا اپنے جسم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہے۔
اگر آپ اسقاط حمل کروانا چاہتی ہیں، اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں، جو آپ کو ہسپتال جانے کے لیے بتائے گا۔ عام طور پر، اسقاطِ حمل ایک جراحی کا عمل ہے جس کے لیے بے ہوشی کی دوا استعمال کی جاتی ہے۔ میڈیکل اسقاطِ حمل کروانا بھی ممکن ہے۔ دوسرے لفظوں میں، گولیاں لینے سے اسقاطِ حمل۔
مزید معلومات کے لیے www.sexlinien.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔
کوئی بھی جسمانی تشدد کا شکار نہ ہو۔
جو بھی گھر کی چار دیواری کے اندر ہوتا ہے وہ ذاتی زندگی کے عنوان کے تحت آتا ہے، اور اس کے مطابق، نہ ریاست اور نہ ہی میونسپل اتھارٹیز اس میں کوئی دخل اندازی کر سکتی ہیں۔ یہ کہنے کے بعد، گھر کا کوئی بھی، بالغ یا بچہ گھر کے اندر جسمانی تشدد یا بے حیائ کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ خلافِ قانون ہے کہ کسی پر جسمانی تشدد کیا جائے۔ اس میں خاوند یا بیوی اور بچے شامل ہیں۔ اگر آپ کو مارا گیا ہے، دھمکی دی گئی ہے یا زبردستی جنسی تعلقات قائم کیے گئے ہیں، آپ میونسپل اتھارٹی، کسی کرائسس سینٹر یا مرکز مشاورت سے مدد لے سکتے ہیں۔ تشدد اور جبر کی رپورٹ پولیس کو کرنا ضروری ہے۔
مدد لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے
اگر آپ کو مدد اور مشورے کی ضرورت ہے، تو آپ اپنی میونسپل اتھارٹی یا کسی مرکز مشاورت سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ جہاں آپ کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ آپ اپنا نام پوشیدہ رکھ سکیں۔
کرائسس کی امداد اور کرائسس سینٹر
اگر صورت حال بگڑ جائے اور آپ کو اسی وقت مدد کی ضرورت پڑے، تو آپ کرائسس سینٹر میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ یہاں آپ کو پناہ ملے گی جب تک یہ پتہ چل سکے کہ آئندہ کیا ہو گا۔ کرائسس سینٹر سماجی، ذہنی اور تعلیمی مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔
کرائسس سینٹر ملک بھر میں قائم ہیں؛ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے۔ بچوں کو کرائسس سینٹر ہمراہ لانا ممکن ہے۔ زیادہ تر کرائسس سینٹر عورتوں کے لیے ہیں جو اپنے پرتشدد خاوندوں یا کسی دوسرے سے جو ان سے بد سلوکی کرتا ہو سے پناہ چاہتی ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.lokk.dk اور www.social.dk کا حوالہ دیتے ہیں۔
بچہ کا پیدا ہونا
ڈاکٹر یا دائی کے ہاں معائنہ
حاملہ عورت کو یہ حق ہے کہ ڈاکٹر یا دائی اس کا معائنہ کریں۔ پہلا معائنہ آپ کے اپنے ڈاکٹر سے ہو گا جب آپ حمل کے نویں ہفتے میں پہنچ جائیں۔ اس ملاقات کے لیے وقت لینا آپ پر منحصر ہے۔ جب آپ حمل کے ۱۰ سے ۱۲ ہفتے میں داخل ہوجاتی ہیں، آپ معائنے کے لیے جا سکتی ہیں تا پتہ چل سکے کہ بچے کو کم عقلی یا مخصوص موروثی بیماریوں کا خطرہ تو نہیں۔ آپ کا ڈاکٹر یا دائی آپ سے معائنہ کے بارے میں بات کریں گے۔
ایک کیس فائل آپ کی اور بچے کی پیروی کرتی ہے۔
ڈاکٹر ایک "کیس سرگزشت" بناتا ہے جو آپ کو ہر بار ڈاکٹر یا دائی کے پاس معائنہ کے لیے ساتھ لانا ضروری ہو گی۔ فائل میں ڈاکٹر یا دائی حمل کی پیش قدمی ریکارڈ کرتی ہے۔ معائنوں کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ اور بچہ کیسے ہیں۔
پیدائش کی تیاریاں
آپ پیدائش کے لیے کورسزکر سکتی ہیں اورجو کچھ آپ کے جسم کو حمل اور بچے کی نشونما کے دوران ہوتا ہے وہ سب کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ پیدائش کو آسان بنانے اور درد میں کمی کرنے کے لیے آپ سانس لینا اور جسمانی ورزشیں بھی سیکھیں گی جو جسم کی تربیت کرتی ہیں۔ اپنی دائی سے موجودہ تربیتی کورسز کے بارے میں پوچھیں۔ آپ اپنے خاوند یا کسی اور شخص کو کورس میں ساتھ لا سکتی ہیں۔
پیدائش
ڈنمارک میں زیادہ تر پیدائش ہسپتال کے زچہ بچہ وارڈ میں ہوتی ہے۔ آپ فیصلہ کریں گی کہ بچے کو کہاں اور کیسے پیدا کرنا ہے۔ آپ اپنے خاوند یا کسی اور شخص کو پیدائش پر ساتھ لا سکتی ہیں۔ بچے کی پیدائش گھر پر بھی ممکن ہے۔ اپنی دائی سے مشورہ کریں۔
زچہ بچہ وارڈ* میں
اگر آپ کا بچہ ہسپتال میں پیدا ہوتا ہے، تو آپ کو اور بچے کو زچہ بچہ وارڈ کے ایک کمرے میں منتقل کر دیا جائے گا۔ یہاں آپ کو بچے کی دیکھ بھال اور دودھ پلانے کے متعلق مشورہ اور نوزائیدہ کا خیال رکھنے کے بارے میں مدد مل سکتی ہے۔
پیدائش کا سرٹیفیکیٹ، نام اور بپتسمہ
جب بچہ پیدا ہو جاتا ہے، والدین کو ایک فارم پر کرنا ضروری ہے جو ریاستی چرچ کے رجسٹرار کو بھیجا جاتا ہے، جو پیدائش کا سرٹیفیکیٹ جاری کرے گا۔ ڈینش نیشنل چرچ* ریاست کی جانب سے تمام نئی ولادتیں رجسٹر کرتا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔
ڈینش نیشنل چرچ سب کو رجسٹر کرتا ہے
ڈینش نیشنل چرچ تمام نوزائیدہ بچوں کے نام بھی رجسٹر کرتا ہے۔ اس لیے ریاستی چرچ کے رجسٹرار کو بچے کے نام سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ یہ بچے کی عمر چھ ماہ ہونے سے پہلے ہوجانا چاہیے۔ آپ کو نام کے لیے فارم یہاں سے مل سکتا ہے www.personregistrering.dk ۔ بچے کو پیدائش کا سرٹیفیکیٹ مل جائے گا۔
بچے کا نام بپتسمہ تقریب کے تحت بھی رکھا جا سکتا ہے جو ڈینش نیشنل چرچ یا کسی بھی منظور شدہ مذہبی جماعت سے ہو سکتا ہے۔ بچے کو پیدائش کا سرٹیفیکیٹ مل جائے گا۔
پہلا نام منظور ہونا ضروری ہے
بچے کا پہلا نام ایک یا دو ہو سکتے ہیں۔ آپ نام کا انتخاب ایک منظور شدہ فہرست سے کر سکتے ہیں جو شعبہ خاندانی امور کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے www.familiestyrelsen.dk اگر آپ ایسا نام چاہتے ہیں جو فہرست میں موجود نہیں تو آپ کو اس کے لیے درخواست دینا ہو گی تاکہ اسے تسلیم کیا جائے۔ درخواست فارم ریاستی چرچ کے رجسٹرار کے پاس دستیاب ہے۔
زچگی اور رخصت والدین
تمام حاملہ عورتوں کو وضع حمل سے پہلے اور بعد میں کچھ عرصہ کی رخصت لینے کا حق ہے۔ بچے کا باپ بھی ایک محدود مدت کے لیے رخصت لے سکتا ہے۔ پبلک اتھارٹیز اور کچھ نجی ادارے معاہدوں کے تحت یہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ملازموں کو زچگی کے لیے رخصت تنخواہ سمیت ملے۔ والدین جنہیں زچگی کی رخصت تنخواہ کے ساتھ نہیں ملتی وہ اپنی میونسپل اتھارٹی سے زچگی کی کفالت لے سکتے ہیں۔ یہ ان کے لیے بھی ہے جو اپنا ذاتی کام کرتے ہیں اگر یہ اپنی تجارت کم از کم چھ ماہ سے کر رہے ہوں۔ چھوٹے بچوں کے والدین کو بھی رخصت کا حق حاصل ہے۔ اپنی میونسپل اتھارٹی سے شرائط معلوم کریں۔
صحت کے نرس کا دورہ
آپ کا حق ہے کہ صحت کی نرس آ کر آپ سے ملے۔ پہلا دورہ اس وقت ہو سکتا ہے جب ماں اور بچے کو ہسپتال سے واپس آئے ایک ہفتہ گزر چکا ہو۔ اس کے بعد، آپ مزید دوروں کے لیے متفق ہو سکتے ہیں۔
بچے کی نشونما کی نگرانی
صحت کی نرس کا کام آپ کو مشورہ دینا ہے تاکہ آپ اور بچہ ہر ممکن بہتر آغاز کر سکیں۔ نمائندہ صحت بچے کا معائنہ کرتا ہے اور اس کی نشونما کی نگرانی کرتا ہے۔ نمائندہ صحت تمام خاندان کی فلاح پر نظر ڈالتا ہے اورکسی بھی ایسے معاملے میں جس میں آپ کو شک ہو مشورے کی پیشکش کرتا ہے۔
اپنے ڈاکٹر سے معائنہ
آپ کا بچہ آپ کے خاندانی ڈاکٹر سے کئی مفت معائنے کروا سکتا ہے۔ بچوں کی صحت کے معائنے کے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے دیکھیں باب ۱۱۔
ماؤں کے گروپ
صحت کی نرس، ان ماؤں کا جنہوں نے ایک ہی عرصے میں جنم دیا ہو ایک گروپ تشکیل دے سکتا ہے۔ مائیں ایک دوسرے کے گھروں میں یا نمائندہ صحت کی انتخاب کردہ جگہ پرملتی ہیں اور ایک دوسرے سے باتیں اور تجربات کا تبادلہ کرتی ہیں۔ اپنی صحت کی نرس سے پوچھیں اگر کوئی ماؤں کے گروپ ہیں جس میں آپ حصہ لے سکیں۔
گھرسے باہر بچوں کی دیکھ بھال
جیسا کہ والدین دن کے وقت کام پر ہوتے ہیں، زیادہ تر چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال ڈے کئیر سینٹر میں کی جاتی ہے۔ بہت سے اسکول جانے والے بچے اسکول کے بعد آفٹر اسکول کئیر یا آفٹر اسکول سینٹر جاتے ہیں۔ والدین ان اداروں سے رابطے میں رہتے ہیں جو ان کے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اس طرح وہ بچے کی طفولیت اور نشونما میں اثر اسوخ رکھ سکتے ہیں - اس وقت بھی جب بچہ گھر پر نہیں ہوتا۔
بےبی کئیر، ڈے کئیر اور نرسریاں
چھ سال سے کم عمر کے زیادہ تر بچوں کی روزانہ کی دیکھ بھال بےبی کئیر یا ڈے کئیر سینٹر یا نرسریوں میں ہوتی ہے۔ میونسپل اتھارٹیز کا کام ہے کہ ڈے کئیر کی سہولت مہیا کرے، اور ایک اتھارٹی سے دوسری میں حق انتخاب مختلف ہوسکتا ہے۔ زیادہ عام یہ ہیں:
- ڈے کئیر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ، بچہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کرایک ایسے دیکھ بھال کرنے والے فرد کی نگرانی میں ہوتا ہے جو میونسپل اتھارٹی سے منظور شدہ ہو۔ یہ خاص طور پر ۳ سال تک کے بچوں کے لیے ہے۔
- دن کی نرسری - 6 ماہ سے 2 سال تک کے بچوں کے لیے۔
- دارلصبیان - 3 سال سے لے کر اسکول شروع کرنے تک کی عمر کے لیے۔
- باہر کا دارلصبیان - جہاں بچے دیہاتی علاقے یا جنگل میں دن گزارتے ہیں۔
- ایک یکجا ادارہ - 6 ماہ سے لے کر اسکول جانے کی عمر تک کے بچوں کے لیے۔
- نجی ڈے کئیر۔ بعض میونسپل اتھارٹیز والدین کو گرانٹ کے طور پر بچوں کے لیے نجی ڈے کئیر کا انتظام کرتی ہیں۔
آپ کو جگہ کے لیے درخواست دینا ہو گی
یہ آپ کا کام ہے کہ میونسپل اتھارٹی سے رابطہ کر کے اپنے بچے کے لیے جگہ رجسٹر کروا لیں۔ اگر فوری طور پر کوئی جگہ دستیاب نہ ہو، بچے کا نام فہرست منتظرین میں درج کر دیا جائے گا۔ جتنی جلدی آپ اپنے بچے کا نام فہرست میں درج کروائیں گے، ضرورت کے وقت جگہ ملنے کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔ اگر آپ اپنے بچے کی دیکھ بھال کے لیے بےبی کئیر کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس کا نام درج کروانا ہو گا۔
اگر آپ کسی دوسری میونسپل اتھارٹی میں چلے جاتے ہیں
اگر آپ کسی دوسری میونسپل اتھارٹی میں چلے جاتے ہیں، اس سے پہلے کہ بچہ ڈے کئیر سینٹر میں جانا شروع کرے، آپ کو نئی میونسپل اتھارٹی سے رابطہ کر کے بچے کا نام فہرست منتظرین میں درج کروانا ہو گا۔ انہیں یہ بتانا یاد رکھیں کہ بچہ کب سے انتظار میں ہے تاکہ آپ کو فہرست کے آخر پر درج نہ کریں۔
اگر آپ کسی دوسری میونسپل اتھارٹی میں چلے جاتے ہیں اس کے بعد کہ بچہ ڈے کئیر سینٹر میں جانا شروع کرے، آپ کو نئی میونسپل اتھارٹی سے رابطہ کر کے بچے کا نام فہرست منتظرین میں درج کروانا ہو گا۔ آپ بچے کو پہلے والی میونسپل اتھارٹی کے ڈے کئیر میں بھی رہنے دے سکتے ہیں جہاں سے آپ آئے ہیں۔
کال کر کے ملاقات کے لیے وقت حاصل کریں
یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کہ آپ اپنے بچے کو کس جگہ بھیجیں گے، آپ ہمیشہ با خوشی مختلف ڈے کئیر سینٹر کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ کال کر کے وقت لیں تاکہ یہ بات یقینی ہو جائے کہ وہاں کے ذمہ دار شخص کے پاس آپ سے بات کرنے اور آپ کو سینٹر کا دورہ کروا نے کا وقت ہے۔
ادائیگی فیس
ڈے کئیر سینٹر میں آپ کے بچے کی دیکھ بھال کے اخراجات آپ کو اٹھانے ہوں گے۔ تاہم، ریاست اس رقم کا کچھ حصہ ادا کرتی ہے۔ اگر آپ کے کئی بچے ڈے کئیر میں ہیں تو آپ کو ہم مادرپدرچھوٹ دی جائے گی، اور آپ میونسپل اتھارٹی میں مفت یا کچھ حد تک مفت جگہ کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ اپنی میونسپل اتھارٹی سے پوچھیں۔
بچے کی دیکھ بھال کروانے کا فرض
اگر آپ بے روزگار ہیں اور آپ کو نقد معاوضہ، بے روزگاری معاوضہ* یا ابتدائی وظیفہ ملتا ہے تو آپ کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو کام کرنے کے لیے دستیاب رکھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جونہی کوئی کام دستیاب ہو آپ کو شروع کرنا ہو گا اور کام کی پیشکش کو قبول کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اس وجہ سے آپ کے بچوں کو ڈے کئیر میں ہونا ضروری ہے۔
اگر آپ کو اپنے بچے کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں ملا، آپ کی میونسپل اتھارٹی آپ کو ڈے کئیر سینٹر یا ڈے کئیر میں جگہ کی پیشکش کرے گی۔ آپ کو مجبوراً یہ ماننا ہو گا۔ اگر آپ یہ نہیں قبول کرتے تو آپ کی مالی امداد منسوخ کی جا سکتی ہے۔
نجی ڈے کئیر کی گرانٹ
میونسپل اتھارٹیز ان والدین کو گرانٹ دیتی ہیں جو اپنے بچوں کو نجی ڈے کئیر میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی دایہ کی خدمات حاصل کرنا۔ کچھ میونسپل اتھارٹیز بچوں کی دیکھ بھال کے لیے والدین کو یہ گرانٹ دیتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال خود کریں۔ اتھارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ کس صورت میں گرانٹ دی جائے گی۔
زبان کی روانی میں مدد۔
اگر آپ کے بچے کو ضرورت ہو، اسے خاص مدد کے تحت ڈینش سکھائی جائے گی، یہ زبان کی روانی کہلاتی ہے اور تین سال کی عمر سے ہوتی ہے۔ یہ سروس آپ کی میونسپل اتھارٹی فراہم کرتی ہے، اور زبان کا خاص تجربہ کار یہ جانچ کرتا ہے کہ آپ کے بچے کو زبان کی روانی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اگر آپ کا بچہ نرسری میں جاتا ہے، زبان کی روانی کی تربیت وہاں دی جائے گی۔ اگر بچے کی دیکھ بھال گھر میں ہو رہی ہے۔ ضروری ہے کہ بچہ ہفتے میں ۱۵ گھنٹے زبان کی روانی کی کلاس لے۔ زبان کی روانی لازمی ہے۔ اپنی میونسپل اتھارٹی سے پوچھیں۔

میرے بیٹے نے ڈینش بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہت سے الفاظ سیکھے ہیں۔
Gülay Ciftci ترکی سے 1977 میں ڈنمارک آئی۔ وہ ایک بلدیہ میں انٹرگریشن اور سماجی مدد کی مشیر ہے اور آج کل سماجی کارکن بننے کے لیے تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
جب ہمارے بیٹے نے اسکول جانا شروع کیا، اس کے اساتذہ نے اس کے ذخیرہ الفاظ کے بارے میں تبصرہ کیا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ یہ زیادہ تر ڈینش بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔ اس کے باوجود کہ میں اس سے ڈینش بولتی ہوں، کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کا مجھے علم نہیں لیکن وہ دوسرے بچوں سے سیکھتا ہے۔ ہم بڑے بھی اسی طرح ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ ڈینش بچوں اور ان کے والدین کو اپنے گھر پر دعوت دی ہے۔ ہم نے بہت سے مضامین پر بحث کی اور یہ ہمارے اور ان کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ دونوں طرف سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں۔"
والدین اور ملازمین کے درمیان رابطہ
والدین اور ڈے کیئر ملازمین کا آپس میں مثبت رابطہ بچے کی اچھی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے۔ ملازمین آپ کو ڈے کیئر سینٹر کی روزانہ کی کاروائی کے متعلق آگاہ کریں گے۔ وہ گھر میں بچے کے متعلق آپ کا تجربہ اور خاندان میں تبدیلیاں جو بچے پر اثرانداز ہو رہی ہیں اسے جاننا چاہتے ہیں۔
اگر آپ کو ملازمین سے بات کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہو، توآپ والدین اساتذہ کے اجلاس کے لیے انتظام کر سکتے ہیں۔
بہت سے ڈے کیئر سینٹر میں ایسے کارکنان ہوتے ہیں جو دو زبانیں جانتے ہیں اور ملاقات میں حصہ لیتے ہیں۔ اگر نہیں تو آپ کے لیے مترجم کی سہولت میسر ہے۔
والدین-اۡساتذہ مجالس اور بورڈ
یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے کی روزانہ کی زندگی میں سرگرم ہو کر حصہ لیں، اس وقت بھی جب آپ کا بچہ کسی دوسرے کی دیکھ بھال میں ہو۔ آپ اپنے بچے کے ڈے کیئر سینٹر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں اور والدین۔ اساتذہ اجلاس میں مشورے دے سکتے ہیں جو سال میں دو بار منعقد ہوتی ہے۔ والدین-اۡساتذہ کے ایک اجلاس میں، والدین بورڈ کے لیے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ نمائندے سینٹر کی معیشت، سرگرمیوں اور تعلیم کے حوالے سے مشورے دیتے ہیں جو بچوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
بچے اور نوجوان
دو تہذیبوں کے درمیان
اگر ڈینش معاشرے کے قواعد اور قدریں اور وہ جو آپ نے گھر میں سکھائی ہیں دونوں میں بہت فرق ہو تو بچے اور نوجوان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اور یہ بحیثیت والدین بھی مشکل ہو سکتا ہے، معاشرے کی قدروں اور بچوں اور نوجوانوں کی امیدوں کا تجربہ کرنا جو آپ کے وطن سے بہت مختلف ہیں۔
نوجوان
جب بچہ تیرہ سے انیس سال کی عمر میں ہوتا ہے اور نئی جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں سے گزرتا ہے تو یہ بالکل بھی آسان نہیں رہتا۔ دوسرے بچوں کی طرح ضروری ہے کہ وہ بھی، اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا سیکھیں اور یہ ثابت کریں کہ وہ آزاد ہیں۔ اس عرصے میں، والدین ان کے ذمہ دار ہیں اور اپنے نوجوان بچوں کے لیے حدود مقرر کرتے رہتے ہیں۔
معاہدے اور قواعد
بہت سے نوجوان اپنے والدین کے ساتھ ان باتوں پر متفق ہو جاتے ہیں کہ تقریبات میں جانے کے لیے کیا قواعد لاگو ہوں گے، کس وقت گھر آنا ہو گا اور کہ انہیں رات گھر سے باہر گزارنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ بہت سے نوجوان - لڑکے اور لڑکیاں - اپنے فارغ وقت میں کیفے ٹیریا اور ڈسکو میں جا کر ملتے ہیں اور نجی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ کچھ ایک دوسرے کے گھروں میں رات گزارتے ہیں۔
بہت سے والدین، مثال کے طور پر، والدین-اۡساتذہ اجلاس میں سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور پارٹیوں کے متعلق ان کے رویوں پر بحث کرتے ہیں۔ ہر خاندان کے رویے، ان قواعد کے بارے میں جو لاگو کرنے ہوں اور آزادی کا درجہ جو ان کے بچوں کے لیے مفید ہو، کافی مختلف ہوتے ہیں۔ والدین-اۡساتذہ اجلاس میں، والدین اپنے بچوں کے لیے مشترکہ قواعد بنا سکتے ہیں - مثال کے طور پر، اسکول کی تقریبات سے متعلق۔
جسم اور جنسیت
آپ تسلیم کریں یا نہ کریں، آپ ڈینش معاشرے میں اکثرننگا پن اور جنسیت دیکھیں گے۔ اخبارات جنس اور جنسی زندگی کے متعلق موضوعات لکھتے ہیں، اور اشتہارات انسانی جسم دکھا کر اس کی نماءش کرتے ہیں۔
یہ روشنی ڈالتا ہے کہ عام معاشرہ جنسی زندگی کی مزید آزادی کے تصور کی طرف جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر،آخری دہائی میں، ساتھ رہنے کے نئے طریقے وجود میں آ گئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے جسم کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی بہت زیادہ آزادی اور ہم جنس لوگوں کے لیے صورت حال میں بہتری آ گئی ہے۔ لیکن اس آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ، جو کچھ آپ کر سکتے ہیں اس کے لیے کچھ حدود مقرر ہیں اور کوئی کسی کو زبردستی کچھ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ نقطہ آغاز یہ ہے کہ ہم ہر ایک کی ذاتی اور جنسی حدود کا احترام کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر پارک اور ساحل سمندر پر دھوپ سیکنے والے نیم ننگے یا کم کپڑے پہنے یا ننگے نہانے والے، ایسے نظر نہیں آنے چاہیں جیسے سرعام جنسی تعلقات کی دعوت دے رہے ہوں۔ اسی طرح، کسی کی جسمانی زبان یا فیشن جو اشتعال انگیز ہو اس سے یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ وہ سرعام جنسی تعلقات کی دعوت دے رہا ہے۔ ضروری ہے کہ زنا بالجبر کی پولیس کو رپورٹ کریں تا اس طرح مجرم یا مجرموں کے خلاف مقدمہ کیا جا سکے۔

بچوں کے حقوق ہیں
ڈنمارک نے اقوامِ متحدہ کی کنوینشن برائے بچوں کے حقوق پر دستخط کیے ہیں جو تمام ۱۸ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جگہ سے ہو۔ کنوینشن کے مطابق، بچوں کا حق ہے کہ انہیں کھانا، اچھی صحت اور رہنے کے لیے جگہ ملے، اور اسکول جانے، کھیلنے اور جنگ سے تحفظ، تشدد، بد سلوکی اور استحصال سے بچاؤ کا حق حاصل ہے۔ انہیں پختہ عزم اور اثر رکھنے کا حق بھی حاصل ہے۔
ڈنمارک میں، بچوں کو مارنا خلاف قانون ہے؛ اسی طرح عورت کے ختنے کرنا بھی خلاف قانون ہے۔
قانون
ڈینش قانون بچوں کے حقوق اورتحفظ کے بارے میں بہت ہی واضح حدود قائم کرتا ہے۔ 15 سال سے کم عمر بچوں سے جنسی تعلقات قائم کرنا خلاف قانون ہے۔ نوجونوں کو سگریٹ یا شراب خریدنے کے لیے 16 سال کا ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو ریستوران اور ڈسکو سے شراب خریدنے کے لیے 18 سال کا ہونا چاہیے۔
گھر چھوڑنا
ڈینش قانون کے مطابق، ۱۸ سال کی عمر میں لوگوں کو مکمل حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ڈرائیونگ کا امتحان دے سکتے ہیں، قرضہ لے سکتے ہیں اور قانونی طور پر اپنے ذمہ دار ہوں گے۔ بہت سے نوجوان جب ۱۸ سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو گھر چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے طور پر رہتے ہیں یا دوسرے ہم عمر افراد کے ساتھ رہتے ہیں۔
مشورہ اور راہنمائی
یہ ممکن ہے کہ مشکل مسائل کے حل کے لیے کسی پیشہ ور کی مدد حاصل کریں۔۔ والدین اور بچے دونوں مل کر یا اپنے طور پر مشورہ اور راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنی میونسپل اتھارٹی سے پوچھیں یا کرائسس لائن یا ٹیلیفون ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ یہ خدمات مفت ہیں اور کال کرنے والا خفیہ رہ سکتا ہے۔

بچے اور خاندان جنہیں مسائل درپیش ہوں ان کے لیے مدد۔
یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں دیکھ بھال کریں اور ان کی نشو نما کے لیے ایک مستحکم ماحول فراہم کریں۔ معاشرہ اس وقت تک دخل نہیں دیتا جب تک یہ خدشہ نہ ہو کہ بچے کی بہبود کو خطرہ ہے۔
اگر مسائل ہوں تو میونسپل اتھارٹی خاندان سے رابطہ کرتی ہے اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ خاندان یا اس کا کوئی ممبر بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ خاندان اور اتھارٹی کی ملی جلی کوشش ہوتی ہے۔ مدد مختلف قسم کی خاندانی امداد پر مشتمل ہے۔
اگر والدین اپنا فرض نہ نبہا سکیں اور بچہ خاندان میں فروغ یا صحیح طرح سے ترقی پانے سے قاصر ہو تو بچے کو خاندان سے باہر کسی متبادل دیکھ بھال میں منتقل کر دیا جائے گا۔ یہ والدین کی رضامندی یا زبردستی بھی ہو سکتا ہے۔ بچہ کچھ مدت تک کسی ادارے یا دستگیری میں رہے گا۔ مثال کے طور پر، یہ اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ والدین نے بچے کو مارا ہو یا کیونکہ وہ اس قابل نہیں کہ بچے کی دیکھ بھال صحیح سے کر سکیں۔ نوجوان جنہیں سنجیدہ معاشرتی مسائل کا سامنا ہو یا جو کسی جرم میں ملوث ہوں اور ان کے والدین اس قابل نہیں کہ ان کی دیکھ بھال کر سکیں، انہیں خاص اداروں میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہاں، انہیں تعلیم شروع کرنے یا ملازمت ڈھونڈنے میں مدد ملے گی۔
بچے اور بڑے جنہیں کوئی معذوری ہو
زندگی جتنی نارمل ممکن ہو سکے
اپنے خاندان کے ساتھ بچے اور بڑے جنہیں خصوصی ضرورت ہو یا جنہیں جسمانی یا دماغی معذوری ہو اپنی روزمرہ کی زندگی کے لیے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ معذور افراد جتنا ممکن ہو سکے مصروف اور نارمل زندگی گزاریں۔
خصوصی پیشکش
زیادہ تر معذور بچے یا ایسے بچے جنہیں خصوصی ضروریات درکار ہوں اپنے والدین کے ہمراہ رہتے ہیں اور عام نرسری، اسکول اور دوسری مصروفیاتی سرگرمیوں میں جاتے ہیں۔ لیکن کچھ خصوصی نرسری اور اسکول میں جاتے ہیں جہاں بچوں کی تربیت اور پڑھائی خاص تربیت یافتہ لوگوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔
نوجوان اور بڑے افراد کے لیے خاص تعلیم، 24 گھنٹے سینٹر،ڈراپ ان سینٹر، پناہ کے لیے کام کی جگہ اور ورک شاپ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
کچھ اپنی ذاتی رہائش میں رہتے ہیں اور ریاست کی طرف سے ذاتی اور عملی مدد حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک ویل چئیر یا کوئی اضافی امداد یا ذاتی مدد گار ہو سکتا ہے۔ دوسرے خصوصی اداروں یا اکٹھے یا پناہ گاہوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں ان کی ضروریات کے لیے امداد ملتی ہے۔
بزرگوں افراد کی حیثیت سے زندگی
متحرک بزرگ افراد
بزرگ شہریوں کے پاس کئی مواقع ہیں کہ وہ اپنی دلچسپی رکھنے والے مقاصد کو حاصل کر سکیں اور ایک مصروف زندگی گزار سکیں۔ ڈینش حکومت کی پالیسی برائے سن رسیدہ افراد کی بنیاد یہ ہے کہ بزرگوں کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری ہو اور جتنا ممکن ہو سکے وہ اپنی زندگیوں پر متاثر ہوں۔ اس لیے بزرگ شہری ہونے کے ناطے آپ کو فیصلہ کرنے میں شامل ہونے کا موقع ہے ،دونوں صورتوں میں، ذاتی سطح پر اور اپنے مقامی علاقے کے مفاد کے فیصلے کے لیے۔
میونسپل اتھارٹیز کی اپنی ایک سن رسیدہ کونسل ہوتی ہے جس کے ممبران مقامی انتخاب کیے گئے بزرگ شہری ہوتے ہیں جو مقامی جماعت میں اتھارٹیز کو بزرگوں کے بارے میں خاص اہمیت کے معاملات میں مشورہ دیتے ہیں۔ اپنی میونسپل اتھارٹی سے امکانات اور ملنے کی جگہوں کے بارے میں پوچھیں۔
کام کی زندگی اور ریٹائرمنٹ
ڈینش سوسائٹی کو اپنے بزرگ شہریوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ اگر ہو سکے تو اپنا حصہ ڈالیں۔ کچھ لوگ ۷۰ سال کی عمر تک کام کرتے ہیں۔ کچھ دوسرے ۶۵ سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں اور ان کا حق ہے کہ وہ ریاست سے پینشن لیں۔ جلد ریٹائرمنٹ کا معاوضہ وصول کر کے اور جلد ریٹائرمنٹ پینشن لے کر کچھ لوگ ملازمت سے جلد ریٹائر ہو جاتے ہیں۔
ریاستی پینشن
زیادہ تر لوگ جب ۶۵ سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو ان کا حق ہے کہ وہ ریاست کی پینشن وصول کریں۔ ریاست کی اس اسکیم کے پیچھے یہ اصول ہے کہ ڈینش معاشرے میں ہر فرد شہری ہونے کے ناطے یہ حق رکھتا ہے کہ اسے ریاستی پینشن ملے۔ اگر آپ 15 سال کی عمر سے ڈنمارک میں 40 سال سے پنشن لینے تک رہے ہیں توآ پ کو ریاست کی مکمل پینشن لینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ اگر آپ ڈنمارک میں کم عرصہ رہے ہیں، آپ کو حق ہے کہ کم پینشن لے سکیں۔ یہ میونسپل پینشن کے دفتر میں حساب لگایا جاتا ہے کہ آپ کی پینشن کتنی ہے اور آپ کو یہ معلومات دی جائ گی کہ کتنی رقم آپ وصول کریں گے۔
پینشن سیونگ
بہت سے لوگ اپنی ریاستی پینشن پر اضافہ کرتے ہوۓ دوسری قسم کی پنشن کا انتخاب کرتے ہیں ۔ بہت سے ملازمین پینشن اسکیموں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر ماہ مالک اور ملازم ایک باقاعدہ رقم پینشن کے لیے کسی پینشن ادارے کو دیتے ہیں۔ آپ پینشن بچت کے لیے براہ راست ادائیگی بینک یا پینشن کی سہولت فراہم کرنے والے کو دے سکتے ہیں۔
اگر آپ پرائیویٹ پینشن ادا کرتے ہیں رقم ٹیکس میں سے نکالی جائے گی اور آپ کم ٹیکس ادا کریں گے۔
جلد ریٹائر ہونے کا فائدہ
جلد ریٹائر معاوضہ ملنے سے لوگ ریٹائر ہو سکتے ہیں یا کچھ حد تک ریٹائر ہو جاتے ہیں، کیونکہ اسکیم یہ اجازت دیتی ہے کہ آپ تنخواہ دار ملازم رہیں اور کچھ حد تک جلد ریٹائر ہونے کا وظیفہ بھی حاصل کریں۔
جلد ریٹائر ہونے کے لیے 60 سال کا ہونا ہو گا۔ یہ ضروری ہے کہ آپ 30 سال تک بے روزگاری فنڈ کے ممبر رہے ہوں اور خاص جلد ریٹائر ہونے کا خصوصی معاوضہ دیا ہو۔ جب آپ 65 سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو جلد ریٹائرمنٹ کا وظیفہ رک جاتا ہے۔
قبل از وقت پنشن
کچھ لوگ کسی جسمانی یا دماغی مسائل میں الجھ جاتے ہیں اور کام نہیں کر سکتے ان جلد ریٹائرمنٹ لینا چاہیے۔ کسی شخص کے لیے جلد ریٹائرمنٹ لینے کے لیے شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے- ان میں سے ایک شرط ڈنمارک میں اقامت کی مدت ہے۔ اپنی میونسپل اتھارٹی سے پوچھیں۔
گھر میں مدد
بہت سے سن رسیدہ لوگ جب تک ممکن ہو سکے اپنے گھر میں رہتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ چیزوں میں مدد مل سکے جیسے صفائی اور خریداری۔ اگر آپ جسمانی طور پر کمزور ہیں تو آپ کو ذاتی دیکھ بھال بھی مل سکتی ہے۔ کتنی مدد مل سکتی ہے یہ میونسپل اتھارٹی پر منحصر ہے کہ کسی کو کیسے جانچ کرتی ہے۔
سن رسیدہ کے لیے رہائش
اگر آپ بزرگ شہری ہیں جسے خصوصی ضروریات درکار ہیں یا جسمانی مسائل ہیں، آپ میونسپل اتھارٹی میں سن رسیدہ رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ بزرگ رہائش سن رسیدہ اور معذور افراد کی ضروریات کو خاص طور پر مدِنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ بہت سے سن رسیدہ گھر صحت سے متعلقہ سینٹر سے ملے ہوتے ہیں اس لیے رہائشیوں کے لیے کال کر کے مدد حاصل کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سن رسیدہ گھر کے لیے فہرست منتظرین ہو۔ اس لیے یہ اچھا خیال ہے کہ جلد اپنا نام درج کروا لیں۔
پناہ گاہ اور نرسنگ گھر
بزرگ جنہیں خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے وہ پناہ گاہ میں رہائش پزیر ہو سکتے ہیں یا نرسری گھر میں رہ سکتے ہیں۔ یہاں، کارکنان عملی طور پر کھانے، کپڑوں اور صفائی کا خیال رکھتے ہیں اور مقیم لوگوں کی ذاتی صفائی کے لیے مدد کرتے ہیں۔ نرسیں ضرورت کی صورت میں دوا دے سکتیں ہیں اور سن رسیدہ افراد کے علاج کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں۔
سن رسیدہ افراد کو ان امداد کی اجرت ادا کرنا ہوگی۔ لیکن قیمتیں عام طور پر بہت کم ہوتی ہیں اور وہ اسے ریاستی پینشن میں سے بھی ادا کر سکتے ہیں۔
جب زندگی ختم ہو
وفات کا سرٹیفیکیٹ
جب کسی کی وفات ہو جاتی ہے تو ڈاکٹر ایک سرٹیفیکیٹ وفات کا اجراء کرتا ہے۔ اگر وفات گھر پر ہوئی ہو، ضروری ہے کہ کوئی رشتہ دار جلد از جلد ڈاکٹر سے رابطہ کرے۔ خاندان کو سرٹیفیکیٹ وفات، وفات کی رپورٹ کے ساتھ ملتا ہے اور لازم ہے کہ اسے ریاستی چرچ کے رجسٹرار کو ارسال کریں۔ مرنے والا یا اس کا خاندان کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، ڈینش نیشنل چرچ* ریاست کی طرف سے تمام وفات کو رجسٹر کرتا ہے
جب کسی شخص کی وفات ہو جاتی ہے تو عدالت برائے تصدیق وصیت نامہ* کو خودبخود خبر ہو جاتی ہے اور قریبی رشتہ داروں کو وفات کے کچھ عرصہ بعد طلب کر لیا جاتا ہے۔ یہاں، یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مرنے والے کی جائیداد اور ذاتی اشیاء کس کو سونپی جائیں گی۔
تدفین
عام طور پر، مرنے والے کو آٹھ دن کے اندر اندر دفنایا یا جلایا جاتا ہے۔ تجہیز و تکفین کا پیشہ ور اس میں عملی کام کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اپنی میونسپل اتھارٹی سے مالی امداد، تدفین کا وظیفہ حاصل کر سکیں۔ اگر مرنے والے کی تدفین کا عمل کسی دوسرے ملک میں ہونا ہو، میونسپل اتھارٹی مرے ہوئے شخص کے لیے ایک خصوصی پاسپورٹ کا اجراء کرتی ہے۔
2100 قبرستان
ڈینش نیشنل چرچ * کے پاس 2100 قبرستان دستیاب ہیں جہاں تمام ڈنمارک کے شہریوں کو تدفین کا حق حاصل ہے۔ اگر آپ کسی اور مذہبی جماعت سے وابستہ ہیں تو آپ یہ مطالبہ نہیں کر سکتے کہ آپ کے رسم و رواج قائم کیے جائیں۔ لیکن آپ قبرستان بورڈ کو اپنی چاہت کے بارے میں آگاہ کر سکتے ہیں۔
دوسرے مذاہب کے قبرستان
کچھ قبرستان میں الگ مذہبی جماعتوں، مسلم اور کیتھولک، کے لیے علیحدہ جگہ ہوتی ہے۔ مذہبی جماعتیں جو ڈینش نیشنل چرچ سے باہر ہوں وہ بھی اپنے قبرستان قائم کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، Brøndby میں ایک مسلم قبرستان ہے۔ یہ خریدا اور چلایا جا رہا ہے ڈینش اسلامک تدفین فاؤنڈیشن کے ذریعہ۔