سامنے کے صفحہ کو کی طرف

2 ملک کیسےچلایا جاتا ہے



با ب 2 ۔ ملک اس طرح چلایا جاتا ہے


جمہوری نمائندگی

ڈنمارک ایک جمہوری* نمائندگی ہے۔ اہم ترین فیصلے ڈینش پارلیمنٹ*، علاقائی کونسلز* اور میونسپل کونسلز* کے لیے جمہوری نظام کے تحت منتخب ہونے والے سیاستدان کرتے ہیں۔

قانونی، انتظامی اور عدالتی اختیارات

ڈنمارک میں قانونی، انتظامی اور عدالتی اختیارات ایک دوسرے سے مکمل طور پرعلیحدٰہ ہیں۔ Folketinget, ڈنمارک کی نیشنل پارلیمنٹ علاقائی قانون پاس کرتی ہے۔ حکومت ان قوانین کو ریاستی انتظامیہ کی مدد سے لاگو کرتی ہے۔ عدالتیں - مثلاً ضلعی عدالتیں، صوبائی عدالتیں اور سپریم کورٹ - فیصلے دیتی اور سزائیں سناتی ہیں۔

جمہوریت 1849 میں متعارف کروائی گئی

ڈینش جمہوریت کی بنیاد 1849 کے ڈینش آئین پر ہے۔ آئین میں سالہاسال تبدیلیاں کی گئی ہیں، مثلاً 1915 میں جب عورتوں کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔ موجودہ آئین 1953 میں بنا لیکن اس کی بہت سے اصول تبدیل نہیں ہوۓ

آئینی حقوق

ڈینش آئین ان بنیادی قواعد پر مشتمل ہے جو ریاست کو چلانے اور ملک کے شہریوں کے بہت سے حقوق اور آزادی کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ ڈینش آئین یقین دہانی کرواتا ہے ذاتی ملکیت کے حقوق کی، تمام مذاہب کی پیروی کرنے کی آزادی، انجمن بنانے کا حق، مظاہرہ کرنے کے حق اوراظہار کی آزادی چاہے وہ لکھ کر، زبانی یا کسی بھی صورت میں ہو۔

ڈنمارک میں، اظہار خیالات کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص جو کچھ وہ سوچتا اور محسوس کرتا ہے، شائع کرنے کے لیے آزاد ہے۔ تاہم عدلیہ اور قانون کا احترام ضروری ہے۔ اگر آپ کسی کی عزت کو ٹھیس پہنچائیں یا کسی کو دھمکی دیں یا بےعزتی کریں، مثلاً کسی کے عقائد یا نسل کے خلاف۔ توآپ کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے

 کی تصویرMargrethe II ملکہ

HRH Queen Margrethe II

HRH Queen Margrethe II ڈنمارک کی ملکہ ہے جس نے 1972 میں عہدہ سنبھالا۔ ڈنمارک کا شاہی خاندان عوام میں بہت مشہور ہے۔ بہت سے لوگ اس کا نئے سال کا خطاب سنتے ہیں جو ریڈیو اور ٹی وی پر 31 دسمبر کو شام 00۔6 بجے نشر کیا جاتا ہے۔



شاہی خاندان

دنیا کا سب سے قدیم ترین شاہی نظام حکومت

ڈینش شاہی نظام حکومت دنیا میں سب سے قدیم ہے۔ ڈنمارک میں ہزار سال سے بھی زائد عرصے سے بادشاہ، ملکہ، شہزادے اور شہزادیاں ہیں۔ شاہی خاندان کے پاس کسی قسم کے سیاسی اختیارات نہیں ہیں لیکن عوامی زندگی میں مختلف طریقوں سے حصہ لیتے ہیں اور ڈنمارک کی ملک سے باہر نمائندگی کرتے ہیں۔

قانونی اختیارات

Folketinget، ڈینش نیشنل پارلیمنٹ، بحث مباحثہ کر کے ڈینش قوانین وضع کرتی ہے۔ Folketinget، کے 179 ممبر ہیں جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔ پارلیمنٹ کے ممبر ایک وقت میں 4 سال تک خدمت کرنے کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ تاہم وزیراعظم پارلیمنٹ توڑ سکتا ہے اور 4 سال کے مقررہ وقت سے پہلے عام انتخابات کا اعلان کر سکتا ہے۔

Folketinget کے دو ممبروں کا انتخاب گرین لینڈ میں اور دو کا جزائر فارو میں ہوتا ہے۔

پبلک کے لیے رسائ

تمام پارلیمانی مباحثے پبلک کے لیے میسر ہوتے ہیں اور کوئی بھی سیاست دانوں سے رابطہ کرنے کے لیے آزاد ہے۔ سیاسی مباحثے غور سے سنے جاتے ہیں اور میڈیا پر زیر بحث لائے جاتے ہیں۔

انتظامی اختیارات

ریاستی انتظامیہ

حکومت وزراء پر مشتمل ہوتیہے جو ایک یا اس سے زیادہ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکومت کی قیادت وزیراعظم کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ہر وزیر اپنے شعبے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اپنے متعلقہ اداروں کے اشتراک سے وزارتیں ریاست بناتی ہیں۔ مختلف صوبوں اور میونسپل اداروں کے تعاؤن سے ریاست، مملکت کی انتظامیہ تشکیل دیتی ہے جسے ریاستی انتظامیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

حکومت اورریاستی انتظامیہ خطے کے قوانین بناتے اور لاگو کرتے ہیں۔

عدالتی اختیارات

آزاد عدلیہ

ڈینش عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے۔ نہ حکومت اور نہ ہی پارلیمنٹ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کسی مقدمے میں عدالت کو کیا کرنا چاہیئے۔

عدلیہ ایک سپریم کورٹ، دو صوبائی عدالتوں اور ۲۴ ضلعی عدالتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ خاص عدالتیں ہیں جو مخصوص شعبہ جات کے معاملے حل کرتی ہیں۔ مثلاً یہ ڈینش انڈسٹریل کورٹ* اور ڈینش میری ٹائم اور کمرشل کورٹ* ہیں۔

ضلعی عدالتیں* اور صوبائی عدالتیں

ایک عام اصول کے تحت مقدمے سب سے پہلے ضلعی عدالت میں حل کیے جاتے ہیں۔ ضلعی عدالت کا فیصلہ صوبائی عدالت میں اپیل کیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ ملک کی اعلٰی ترین عدالت ہے۔ سپریم کورٹ اپیل کرنے کی عدالت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ زیادہ تر صوبائی عدالتوں سے اپیل کے کیس لیتی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کہیں بھی اپیل نہیں کیے جا سکتے۔

آخری اپیل کے لیے خاص عدالت

اگر کوئی شخص کریمینل کیس کو دوبارہ سے کھلوانا چاہے تو فیصلے کو آخری اپیل کی خاص عدالت میں اپیل کرنا ممکن ہے۔ یہ اس لیے ہو گا کہ اگر کوئی مقدمہ، جو پہلے بند ہو چکا ہے، اس میں کوئی نیا ثبوت سامنے آیا ہو۔

انٹرگریشن کونسل کی تصویر

انٹرگریشن کونسل

میونسپل اتھارٹی انٹرگریشن کونسل تشکیل دے سکتی ہیں۔ ان کونسلز کا کام میونسپل اتھارٹی کو مشورہ دینا ہے کہ نئے شہری اور نسلی اقلیتیں کس طرح مقامی معاشرے میں سرگرم رہ سکتے ہیں۔ آپ کی میونسپل اتھارٹی آپ کو بتا سکتی ہے کہ اس کی انٹرگریشن کونسل ہے یا نہیں۔ آپ اپنی میونسپل اتھارٹی کو انٹرگریشن کونسل قائم کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

مقامی انٹرگریشن کونسلز قومی نسلی اقلیت کونسل کے لیے نمائندے منتخب کرتی ہے جو حکومت کی مشاورت کرتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے www.rem.dk پر جائیں



پرویز اقبال

میرے خیال میں یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ملوث ہوں

پرویز اقبال نے اپنا پیدائشی وطن پاکستان 1970 میں چھوڑا اور ڈنمارک میں آباد ہو گئے۔ وہ دوسروں کے ساتھ بہت سی انجمن مہاجرین کے بانی ہیں۔ وہ آلبرٹسلنڈ میونسپل اتھاڑٹی میں ڈسٹرکٹ کونسل اور انٹرگریشن کونسل دونوں کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔

میری رائے میں، یہ ہر مہاجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے تجربے کا فائدہ سرگرمی سے دوسروں کو پہنچائیں۔ مقامی معاشرے کی سطح پر صاحب اثر ہونے کے بہت مواقع ہیں؛ سوال صرف انہیں استعمال کرنے کا ہے۔ میں خود ۱۹۸۰ کے بعد اس میں سر گرم ہوا کیونکہ جو کچھ میڈیا میں مہاجرین کے بارے میں کہا جا رہا تھا، میں اس پر بات کرنا چاہتا تھا۔ تجربے نے مجھے بہت کچھ سکھایا؛ میں بہت سے مختلف لوگوں سے ملا اور آج میرے بہت سے ڈینش دوست ہیں۔ مباحثوں میں سر گرمی سے حصہ لے کر، میں نے کئی ڈینش لوگوں کے مہاجرین کے بارے میں اندیشےبدلنے میں مدد کی اور آلبرٹسلینڈ کی میونسپل اتھارٹی میں انٹرگریشن کی شروعات کو فروغ دیا۔



میونسپل اتھارٹی اور صوبے

شہریوں کے قریب

ڈنمارک 98 میونسپل اتھارٹی میں بٹا ہوا ہے، ہر ایک کے اپنے جمہوری منتخب کردہ میونسپل کونسل اور میئر ہیں۔ میونسپل کونسل کے الیکشن ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں۔ میونسپل اتھارٹی پارلیمنٹ کی ہدایت کے تحت مقامی علاقہ جات میں بہت سے کام کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر، میونسپل اتھارٹی کی ذمہ داری ہے کہ ڈے کئیر سینٹر، اسکول، بوڑھوں کی دیکھ بھال مہیا کرے، سڑکیں بنائے اور مقامی علاقوں میں ثقافتی سرگرمیوں کے لیے مناسب ڈھانچہ تیار کرے۔ میونسپل اتھارٹی دوسری قومیت کے لوگوں کو ڈنمارک میں آباد ہونے اور یہاں نئی زندگی کا آغاز کرنے میں ان کی مدد کرتی ہے - اکثر ڈینش زبان کے کورس مہیا کر کے اور ڈینش معاشرے کے بارے میں معلومات سے آگاہ کر کے۔ نئے شہریوں کے لیے ڈینش زبان کی ٹویشن کے بارے میں مزید معلومات کے لیے باب ۴، ڈنمارک میں نیا شہری۔

صوبے

ڈنمارک ۵ صوبوں* میں بٹا ہوا ہے۔ ہر صوبے کی حکومت صوبائی کونسل چلاتی ہے جو جمہوری طور پر ہر چار سال بعد منتخب ہوتی ہے۔ صوبے ہسپتالوں، ٹریفک اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ووٹ اور انتخابات

ووٹ دینے کا حق

جو بھی ۱۸ سال کا ہو ووٹ دینا اورمیونسپل انتخابات میں کھڑا ہونا اس کا حق ہے۔ اگر آپ یورپی یونین یا نورڈک خطے سے باہر کسی ملک کے شہری ہیں، تو یہ صرف اس صورت میں لاگو ہے اگر آپ انتخابات ہونے سے تین سال پہلے سے مستقل طور پر ڈنمارک میں رہائش پذیر ہیں۔

عام انتخابات اور قومی ریفرینڈم میں حصہ لینے کے لیے ڈنمارک کا شہری ہونا لازم ہے۔

یورپی یونین قومیت رکھنے والے جو ڈنمارک میں رہتے ہیں یورپی پارلیمانی انتخابات* میں ووٹ دے سکتے ہیں، چاہے یہاں ڈنمارک میں یا اپنے ملک میں۔

بیلٹ پیپر

وہ تمام لوگ جو ووٹ دینے کے اہل ہوں انہیں عام انتخابات اورقومی ریفرینڈم سے متعلق بیلٹ پیپر ملتا ہے۔ بیلٹ پیپر پر درج ہوتا ہے کہ کب اور کہاں ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈال کر آپ ڈینش معاشرے اور روزمرہ زندگی کو بہترکرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ڈنمارک کی یہ روایت ہے کہ انتخابات پر نتائج بہت زیادہ ووٹر سامنے آتے ہیں۔

سیاسی جماعتیں

ڈنمارک کی بہت سی سیاسی جماعتیں ہیں جو سیاسی انتخابات کے لیے امیدوار تیار کرتی ہیں۔ اگر آپ امید وار کے انتخاب میں حصہ لینا چاہتے ہیں، آپ کو کسی سیاسی جماعت کا ممبر بننا پڑے گا۔ صوبائی اور میونسپل انتخابات پر، کراس پارٹی لسٹ اور خاص نان پارٹی شہری لسٹ* بھی امیدوار پیش کر سکتی ہیں۔

قانونی معاشرہ

ڈنمارک ایک جمہوری معاشرہ ہے جس کی بنیاد قانون* کے قاعدے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت اور ریاستی انتظامیہ، جس میں پولیس بھی شامل ہے، سب جمہوری نظام کے کنٹرول میں ہیں اور عدلیہ حکومت سے آزاد ہو کر کام کرتی ہے۔ تمام شہریوں کے خاص بنیادی حقوق اور آزادیاں ہیں، اور قانون کا احترام کرنا ضروری ہے۔ تمام تر شہریوں کو حق حاصل ہے کہ انتظامی اتھارٹیز اورعدلیہ قانون کے مطابق ان کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھیں۔

راز رکھنے کی ذمہ داری

پبلک اتھارٹی کے ملازمین پر راز رکھنے کی ذمہ داری ہے۔ عام قاعدے کے تحت اس کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی معلومات صرف آپ کے ملازمت دھندہ یا ڈاکٹر کو آپ کی اجازت سے دی جائے گی۔

ریکارڈ* تک رسائی

آپ کو حق ہے کہ اپنے ریکارڈ تک رسائی رکھ سکیں۔ عام طور پر اگر آپ ریکارڈ کی رسائی کے لیے درخواست دیں تو آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کے دستاویزی ریکارڈ میں کیا معلومات ہیں۔

پارلیمانی محتسب

محتسب کا انتخاب پارلیمنٹ کرتی ہے جو ایسے معاملات کی تفتیش کرتا ہے جو ریاستی انتظامیہ کی طرف سے غلطی یا لاپرواہی کا شکار ہوں۔ محتسب حکومت سے آزاد ہوتا ہے اور خود تفتیش کر سکتا ہے۔

اگر کوئ سمجھے کہ کوئی اتھارٹی قانون توڑنے کی قصوروار ہے یا کوئی انتظامی غلطی کرتی ہے تو محتسب سے کوئی بھی رابطہ کر سکتا ہے ۔ لیکن شکایت کے تمام دوسرے راستے پہلے اپنانے ہوں گے۔ محتسب کی خدمات تمام شہریوں کے لیے مفت ہیں۔

ریاستی انتظامیہ کے متعلق شکایت کرنے کا آپ کا حق اورامکانات

ڈینش پبلک ایڈمنسٹریشن ایکٹ میں یہ درج ہے کہ پبلک اتھارٹی نے شہریوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے۔

دوسری چیزوں کے علاوہ ایکٹ میں یہ درج ہے کہ لازم ہے کہ کسی درخواست کو مسترد کرنے کی صفائی دینی ہو گی۔ اور ایکٹ مزید یہ کہتا ہے کہ ریاستی انتظامیہ کے لیے لازم ہے کہ آپ کو شکایت کرنے کے لیے متبدل اتھارٹی کے بارے میں اگر ایسی کوئی اتھارٹی ہو تو مشورہ دے۔

کا قانونی مجموعہKarnov


جرم اور سزا

اگرکوئی شخص جرم کرنے کا مرتکب ہوا ہے تو پولیس اس کیس کی تفتیش کرے گی۔ پبلک پراسیکیوٹر مقدمہ دائر کرتا ہے۔ عدالتیں فیصلہ کرتی ہیں کہ اس شخص کو سزا دی جائے یا نہیں۔

24 گھنٹے کے اندر جج کے سامنے پیشی

اگر آپ کو کسی جرم کی پاداش میں گرفتارکیا گیا ہے، تو آپ کو حق ہے کہ آپ کو 24 گھنٹے کے اندر جج کے سامنے پیش کیا جائے۔ جج یہ فیصلہ کرے گا کہ اس شخص کوتفتیش کے لیے حراست میں دیا جائے جب پولیس کیس کی تفتیش کرے۔

کسی جرم کے خلاف قانونی کاروائی میں ملزم ہونے کی حیثیت سے، آپ کو خاموش رہنے کا حق ہے۔ اور آپ کو وکیل سے قانونی مشاورت کا حق ہے۔

جرمانہ، قید اور دوسری سزائیں

سزا دو قسم کی ہوتی ہے: جرمانے اور قید۔ ۱۸ سال سے کم عمر نوجوان اورذہنی طور پر بیمار افراد کوعلاج کی سزا دی جا سکتی ہے۔

مشروط اور غیر مشروط سزاءیں

قید کی سزائیں مشروط اور غیر مشروطبھی ہو سکتی ہیں۔ اگر کسی کو مشروط سزا ملتی ہے تو انہیں جیل صرف اس صورت میں بھیجا جائے گا اگر وہ کوئی نیا جرم کریں۔ تاہم دوسری شرائط، مشروط سزا کے ساتھ لاگو ہوتی ہیں، جیسا کہ سزایافتہ مجرم کے لیے علاج کا کورس کرنے کی ضرورت۔

عمر قید سخت ترین سزا ہے

عمر قید وہ سخت ترین سزا ہے جو عدالت سنا سکتی ہے۔ ڈنمارک میں سزائے موت نہیں ہوتی۔

15 سال سے کم عمر نوجوان

15 سال سے کم عمر نوجوانوں کے خلاف مقدمہ دائرنہیں ہو سکتا۔ تاہم، 18 سال سے کم عمرمشکوک نوجوانوں کو پولیس گرفتار کر سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی 15 سال سے کم عمر نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاتا، سوشل اتھارٹیز انہیں مخصوص کورسز پر بھیجنے یا 24 گھنٹے کسی بند حفاظتی مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔

مجرم کا ریکارڈ

کوئی ملازمت دینے والا کسی کو نوکری دینے کا فیصلہ کرنے سے پہلےاس کے جرائم کا ریکارڈ دیکھنے کے لیے پوچھ سکتا ہے۔

جرائم کا ریکارڈ ایک دستاویز ہے جس پر یہ درج ہوتا ہے کہ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے، تو اس کی نوعیت کیا ہے اورانہیں اس کی کیا سزا ملی۔

اگر آپ کو جرائم کا ریکارڈ چاہیئے تو آپ قریبی تھانے میں درخواست دے سکتے ہیں۔

مفت قانونی کاروائ

ریاست کی طرف سے مدد

اگر آپ کسی قانونی کاروائی میں ملوث ہو گئے ہیں اور آمدن کم ہے تو آپ مفت قانونی امداد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کی مفت قانونی امداد منظور ہو جاتی ہے تو حکومت وکیل کا خرچہ اٹھانے میں مدد اور قانونی اخراجات کو پورا کرے گی۔

قانونی امداد

اگر آپ کو کوئی قانونی مسئلہ درپیش ہے، تو آپ قانونی امداد کے لیے یا قانونی مشاورت بیورو کو درخواست دے سکتے ہیں۔ یہاں، ایک قانون دان غیر موسوم قانونی مشورہ دے گا۔ یہ سروس یا مفت ہے یا نہایت سستی ہے۔ آپ مفت قانونی مدد یا قانونی مشاورت بیورو کے بارے میں مزید معلومات www.advokatsamfundet.dk سے حاصل کر سکتے ہیں۔

پولیس

کوئی بھی پولیس سے رابطہ کر سکتا ہے۔

پولیس کا کام عوامی نظام کو برقرار رکھنا اور جرائم کو روکنا ، تفتیش کرنا اور ان کو حل کرنا ہے۔ کوئی بھی پولیس کے پاس مدد کے لیے اور قانون کی خلاف ورزی کی رپورٹ درج کروانے کے لیے جا سکتا ہے۔ مثلا، آپ پولیس سے رابطہ کر سکتے ہیں اگر آپ کی چوری ہو گئی ہے یا آپ پر حملہ ہوا ہے یا آپ کسی جرم کے گواہ ہیں ۔ آپ ۱۱۲ پر بھی کال کر سکتے ہیں۔

ایس ایس پی* (SSP ) سکیم

بہت سے علاقوں میں، پولیس ایس ایس پی سکیم کے تحت اسکولوں اور سوشل اتھارٹیز کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ یہ نوجوانوں میں جرائم کوروکنے کے لیے ایک مشترکہ مہم ہے۔

پولیس کا اہل کار


پولیس کو چلانے کے قواعد

پولیس کے لیے کچھ اصولوں پر چلنا ضروری ہے جب کسی مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جائے یا اس سے پوچھ گچھ کی جائے۔ انہیں تشدد کا استعمال یا اس کے بارے میں دھمکانا نہیں چاہیے۔ اور انہیں گرفتار کی گئی پارٹی کو اس کے حقوق سے آگاہ کرنا ہو گا۔

پولیس پر بہت زیادہ اعتماد

ڈینش لوگ پولیس پر ہر پہلو سے بہت اعتماد کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص پولیس کے برتاؤ سے مطمئن نہ ہو تو وہ پبلک پراسیکیوٹر* سے شکایت کر سکتا ہے جو دوسرے معاملات کے ساتھ ساتھ پولیس کے رویے کی شکایات کے معاملے بھی حل کرتا ہے۔ صوبائی پبلک پراسیکیوٹر کےچھ دفاتر ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.rigsadvokaten.dk

خود تلافی کرنا

قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا منع ہے، مثلاً کسی کو مارنا کیونکہ اس نے آپ کو غصہ دلایا۔ اسے خود تلافی کرنے کا نام دیا جاتا ہے اور یہ قانوناً جرم ہے

ڈنمارک اور دنیا

بہت سے بین الاقوامی رابطے

ڈنمارک کے بہت سے بین الاقوامی رابطے ہیں۔ ڈنمارک یورپی یونین ( EU*)، یورپین کونسل، اقوام متحدہ ( UN)، نیٹو (NATO*)، معشیت میں تعاون اور فروغ کا ادارہ (OECD* ) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ( WHO*) کا ممبر ہے۔

بین الاقوامی معاہدے

ڈنمارک نے بہت سے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کیے ہیںجو انسانی حقوق کی حفاظت سے متعلق ہیں۔ مثلاً، اقوام متحدہ کا تہذیب کے خلاف معاہدہ، نسلی امتیازیت کی ہر قسم کے خلاف، عورتوں سے امتیازی سلوک برتنے کے خلاف اور بچوں کے حقوق کے متعلق معاہدہ۔

یورپین کونسل کا ممبر ہونے کے ناطے ڈنمارک نے یورپین کنوینشن برائے انسانی حقوق میں شمولیت اختیار کر لی ہےاور اسے ڈنمارک کے قانون میں شامل کر لیا ہے۔

یورپی یونین (EU*)

ڈنمارک ۱۹۷۳ میں یورپی یونین کا ممبر بنا۔ اس وقت سے یورپی یونین کا اثر بہت سے شعبہ جات میں بڑھ گیا ہے، خاص طور پر ممبر ریاستوں کے قانون میں۔ دوسری چیزوں کے علاوہ ممبر ریاستیں ماحول، صارفین کے معاملات اور مشترکہ مارکیٹ میں مفت تجارت میں تعاؤن کرتی ہیں۔ کچھ کی کرنسی مشترکہ ہے، یورو۔ ڈنمارک یورو زون کا حصہ نہیں ہے۔

اقوام متحدہ (UN*)

اقوام متحدہ کا ممبر ہونے کی وجہ سے ڈنمارک اپنا کردار ادا کرتا ہے ضرورت مندوں کی مدد کر کے، دنیا میں امن اور ترقی کی حفاظت کر کے اور انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دے کر۔

NATO* اور OECD*

ملٹری اتحاد میں، نیٹو ( NATO)اور معاشی تنظیم ،OECD، ڈنمارک کینیڈا، امریکہ اور بہت سے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

بین الاقوامی تعاون برائے ترقی

ڈنمارک اپنے جی این پی کا 0.8 فیصد غریب ممالک کی ترقی کے منصوبوں پرخرچ کرتا ہے ایسے ممالک افریقہ، ایشاء اور لاطینی امریکہ میں ہیں۔

مالی امداد اقوام متحدہ اور دوسری بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعہ دی جاتی ہے اور ڈنمارک خود براہ راست لینے والے ملکوں کو دیتا ہے۔

ان لینے والے ممالک کو امداد باہمی تعلقات کی بنیاد پر دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی ترقی کی ذمہ داری خود لے سکیں۔

ڈینش امداد میں خاص الفاظ غریب ترین لوگوں کی مدد کرنا، جنسی مساوات، مضبوط حکومت، جمہوریت، انسانی حقوق، ماحول کا خیال اور اسے تباہ ہونے سے بچانا ہیں۔

پناہ گزینوں کی امداد

ڈنمارک دنیا بھر کے پناہ گزینوں کی مدد کر کے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بین الاقوامی امن برقرار رکھنے والے مشنز کے ذریعہ کیا جاتا ہے، جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے، پناہ گزینوں کو دوبارہ آباد کرنا اور مہاجرین کی وطن واپسی جب حالات اجازت دیں۔

پناہ گزینوں کی آباد کاری کا کام ایسی جگہوں پر کیا جاتا ہے جو متنازع علاقوں سے قریب یا ڈنمارک میں ہوں۔ ڈنمارک ہر سال ۵۰۰ پناہ گزینوں کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (UNHCR) کے ساتھ معاہدے کے تحت اباد کرتا ہے اس تعداد کے علاوہ ڈنمارک میں کافی تعداد میں لوگ آتے ہیں اور جنہیں پناہ گزین کا درجہ دیا جاتا ہے۔





آخری تازہ ترین: 20/03/2009
نے شائع کیا: وزارت پناہ گزین، مہاجرین اور انٹرگريشن امور
پپورٹل کے حصے دار شریک پناہ گزین، تارک وطن اور انضمام وسائل کے معاملات کی وزارت – دی ڈینش امیگریشن سروس